پی ٹی وی پر دکھایا جانیوالا ڈرامہ، یونس ایمرے، یہ صوفی شاعر کون تھے، جانیے زوہا اقبال سے

180

السلام علیکم : میں ہوں زوہا اقبال۔۔۔۔

[iframe src="data:image/svg+xml,%3Csvg%20xmlns%3D%27//www.w3.org/2000/svg%27%20viewBox%3D%270%200%203%202%27%3E%3C/svg%3E" data-src="//www.youtube.com/embed/JOnAmMGjp6k" width="100%" height="500"]

پاکستان ٹیلیویژن پر ارتغل غازی کے بعد دوسرا ایک اور مشہور ترکی ڈرامہ سیریل یونس ایمرے دکھایا جارہا ہے، جس کی ابتدائی دو اقساط نے ہی دھوم مچادی، یہ بنیادی طور پر تصوف کی ایک کہانی ہے، یونس ایک عاشق، صوفی شاعر بزرگ گزرے ہیں جنہیں ایک سخت گیر قاضی سے نرم دل صوفی بننے کیلئے اللہ تک پہنچنے کی تڑپ ایک صوفی تک کھینچ لائی، اس کے بعد انہوں نے عشق کی وہ منازل طے کیں کہ آج تک ان کا نام زندہ ہے۔۔۔۔ یہ چودہویں صدی کی بات ہے کہ اناطولیہ میں سلجوقوں کی باقیات برسراقتدار تھی۔ انکی شمالی سرحد پر صلیبی بیٹھے تھے تو مشرق میں بغداد کو خلیفہ سمیت اکھاڑ پھینکے والے تاتاریوں نے طوفان کھڑا کر رکھا تھا۔ یوں مسلمانوں کی قوت و شوکت اور مسلم فرمان رواؤں کا وہ پہلے سا جاہ و جلال قصے کہانیوں تک محدود ہوچکا تھا۔ قونیا میں مولانا جلال الدین رومی کی خانقاہ تھی جہاں گرد و پیش کے حالات سے قطع نظر ہر روز معرفت کی محفل سجتی، مراقبے کی خاموشی چھاتی، زکر کی گونج سے در و دیوار لرزتے اور اور پھر رقص بے خودی میں آتش عشق بڑھک اٹھتا تھا۔ رومی ثانی کہلائے جانے والے یونس ایمرے تصوف سے بیزار تھے، انہوں نے قونیہ میں خود کو علم کی گھتیں سلجھانے اور شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔ مدرسے سے فارغ ہوئے تو قاضی کا منصب دیکر قونیا سے دور مضافاتی قصبے میں بھیج دئے گئے۔ شہر پناہ میں تصوف سے بھاگنے اور رومی سے متاثر نہ ہونے والا قاضی مگر پہاڑوں میں ایک صوفی چرواہے تاپتک ایمرے کو دل دے بیٹھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونس سے یونس ایمرے ہوگیا۔ پہلے مقام قضاء کو ٹھکرا کر صوفی ہوا اور پھر حکمت کی باتوں کو شعر کے روپ میں ڈھالنے لگا۔ کہتے ہیں کہ رومی اور یونس ایمرے ایک ہی کشتی کے دو سوار تھے۔ ترکی کے سرکاری چینل پر چلنے والی مقبول سیریز “یونس ایمرے” ترکوں کے اسلامی تصوف، عارفانہ کلام اور لوک گیتوں سے دیرینہ اور توانا تعلق کا ایک مظہر ہے۔ جہاں یہ ڈرامہ یونس ایمرے کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں وہیں جابجا اسکا موضوع شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے مابین قدیم بحث کے پیچھے بھی گھومتا نظر آتا ہے۔ آخر کس طرح ظاہر پر یقین رکھنے والا قاضی سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرتا ہے، آخر وہ کیا بات ہوتی ہے کہ کتابوں کی کتابیں حفظ کرلینے والا بندہ ہر سوال پر ‘مجھے نہیں معلوم” کہتا سنا جاتا ہے۔ آخر وہ کونسے حالات ہوتے ہیں کہ شاعری کو گمراہی سمجھنے والا کتابی بندہ جنگ قوس دگ کا مرثیہ لکھتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اسلامی تصوف پر اس سے پہلے کبھی کوئی اتنا شاندار ڈرامہ بنایا گیا ہو۔

ناظرین : آپ سب کو میری دعوت ہے کہ پی ٹی وی پر یہ ڈرامہ ضرور دیکھیں۔ یقینا آج کی ویڈیو آپ کو پسند آئی ہوگی، نئے آنے والے احباب چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئکن پر کلک کریں۔ اجازت دیجیئے۔ اللہ حافظ

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: