وومن ڈے اور بلوچستان تحریر: ماہ رنگ بلوچ

عورت پہلے ماں ہے یا انسان؟ بہت تلخ سوال ہے اور پوسٹ ماڈرن ڈسکورسز میں بڑی بحث بھی ہے۔عورت اور مرد سادہ الفاظ میں انسان ہیں۔ نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام کی ارتقاء سے معاشی اور سماجی حوالے سے استحصال کا شکار ہیں۔ لیکن چونکہ نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام سے جنم لینے والے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام میں عورت سب سے زیادہ استحصال کا شکار رہا ہے اور انہی جبر کے نظام سے جنم لینے والی ”پدر شاہی“ آج کی اس ماڈرن دور میں عالمی حقیقت ہے جس سے کسی صورت بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن پدر شاہی سے قطعاً مراد وہ مرد نہیں جو خود اس استحصالی نظام کا شکار ہے۔ پدر شاہی اُس سوچ کا نام ہے جو مکمل طور جبر پر مبنی نظام ہے، جس سے نہ صرف تیسری دنیاکے ممالک بلکہ پورا یورپ بھی آج تک اس بیماری سے مکمل طور پر نہیں نکل پائی ہے۔ نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی استحصال زدہ زندگی اور اس کی تاریخی ارتقاء پر شاید اس مختصر آرٹیکل میں بحث ممکن نہیں اس لیے اس بحث کو کسی اور سرکل یا مکالمے کے لیے چھوڑتے ہیں۔
عالمی یوم عورت یا انٹرنیشنل وومن ڈے کی بنیاد ہی امریکہ میں خواتین ورکرز کی جدوجہد سے پڑا۔ جہاں 15 ہزار محنت کش عورتوں نے اپنے بنیادی سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے نیو یارک میں مارچ کیا۔ پھر عورتوں کی سالہا سال کی سیاسی جدوجہد کی بدولت پوری دنیا اس دن کو عورتوں کی عالمی دن منارہی ہے۔ لیکن گذشتہ دہائیوں سے کارپوریٹ فیمینزم نے عورت کے حقیقی سیاسی، سماجی اور معاشی مسئلوں سے توجہ ہٹا کر اسے صرف مصنوعی مسئلوں میں الجھا دیا ہے اور عورتوں کی اس سیاسی تحریک کو مرد مخالف تحریک بنا دیا ہے۔ بنیادی طور پراس دن کو عورت کے نام منانے کا بنیادی مقصدجس طرح عورت سماجی، معاشی اور سیاسی حوالے سے جبر کا شکار ہیں، اس کے خلاف لوگوں میں سیاسی شعور کو اجاگر کرنا ہے اور پوری تاریخی پس منظر کے ساتھ ایک صحت مندانہ مباحثے کا آغاز بھی کرنا ہے کہ کس طرح نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام نے عورت کو روز مرہ کی زندگی سے لیکر سیاسی میدان تک جبر و استحصال کا شکار رکھا ہوا ہے اور بحیثیت انسان عورت کے وجود سے انکار کرکے اُسے صرف رشتوں تک محدود رکھا۔ لیکن وومن ڈے کو اپنے ابتداء سے ہی نہ صرف پدر شاہی بلکہ کارپورٹ فیمیزم نے بھی متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے۔ وومن ڈے کی بنیاد نہ عزت، غیرت اور رشتے کے لیے پڑا، نہ مرد سے نفرت کرنے کے لیے بلکہ یہ ایک خالص سیاسی تحریک کی بنیاد تھی جس میں جبر و استحصال پر قائم نظام کے خلاف جدوجہد اور عورتوں میں اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کے لیے سیاسی شعور کو اجاگر کرنا تھا۔
اب ہم بلوچستان کی طرف آتے ہیں۔ بنیادی طور پر ہر ذی شعور انسان اس بات سے مکمل طور پر اتفاق رکھتی ہے کہ عورت جبر کا شکار ہے لیکن ہر زمین، ہرقوم و سماج کے خواتین کے اپنے مسائل اور وہ مسائل اپنے بنیاد میں مختلف بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی خواتین استحصال کا شکار ہیں لیکن بلوچ خواتین کے مسائل وہ نہیں ہیں، جو بلوچستان سے باہر کے خواتین کے ہیں۔ اگر بلوچ خواتین کے مسئلے پر آواز اُٹھانا ہے تو سب سے پہلے بلوچ خواتین کے مسئلے کو سمجھنا ہوگا۔
بلوچستان میں بلوچ خواتین کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ بلوچ سماج، بلوچ سماجی نفسیات اور اس کی تاریخی ارتقاء کو سمجھیں۔ قبل ازنوآبادیاتی ادوار بلوچ خواتین تاریخی طور پر سماج میں مردوں کی طرح اہم سیاسی و سماجی کردار رہا ہے۔ ادبی، مزاحمتی، سماجی، سیاسی اور معاشی معاملوں میں ایک فعال کردار رہا ہے۔ جہاں ایک گھر کے معاشی معاملوں سے لیکر سماجی فیصلوں تک خواتین کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ آج بھی پہاڑ و دیہات میں رہنے والا بلوچ گھرانے میں خواتین اہم کردار ہے۔ مال موشیوں کا مالکن خواتین ہیں، زرخیز زمین خواتین کے نام پر ہے، بچے اپنے ماں کے نام سے پہچانے اور پکارے جاتے ہیں۔ پہاڑ میں رہنا والے وہ خواتین خاندانی فیصلوں میں آج بھی فیصلہ کن قوت ہیں۔ پہاڑ میں رہنے والا اُن بلوچ خواتین کے پاس آج بھی کسی پردہ پوشی کا رواج نہیں ہے۔ منگوچر کے پہاڑوں میں رہنے والے خواتین آج بھی باہر سے آنے والے کسی بھی نامعلوم مہمان کو بغیر اسکی شناخت پوچھے مرد کی غیر موجودگی میں بھی اس کو گھر میں پناہ دیتی ہیں۔ بلوچ خواتین کے فیصلہ سازی سے لیکر سماجی و سیاسی معاملوں میں یہ کردار نہ صرف پہاڑوں اور دیہاتوں میں رہنے والے خواتین میں موجود ہیں بلکہ ان میں بہت سے کردار آپ کے بلوچ شہروں میں بھی ملیں گے۔
شائد قارئین کے لیے یہ محض بغیر دلیل و ریفرنسز کے جذباتی باتیں ہوں لیکن یقین جانیے یہی بلوچ سماج کا خوبصورت چہرہ ہے۔ اس پر اکیڈمک مباحثے کی ضرورت ہے۔ بلوچ سماج کی حقیقی عکس پر لکھنے کی ضرورت ہے، بدبختی آج اس اہم معاملے میں سنجیدہ مباحث نہ ہونے کی برابر ہے۔ آج وہ لوگ بھی بلوچ سماجی نظام کو جبر پر مبنی نظام قرار دیتے ہیں، جن کو بلوچ و بلوچستان کے بارے میں الف اور ب کا بھی پتہ نہیں ہے۔ بلوچ سماج کی اندرونی کمزوریوں اور برائیوں سے کوئی عقل سے پیدل ہی انکار کرے لیکن موجود کمزوریوں پر اس نیت سے مباحثے کا آغاز کیا جائے جس سے سماجی تبدیلی کا عمل ممکن ہو اس کے لیے ان مسئلوں کی تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر پردہ پوشی کا تصور، کاروکاری میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، وٹہ سٹہ وغیرہ وغیرہ ان کی تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتی ہے، یہی وہ تمام بنیادی مسئلے ہیں جو بذات خود بلوچ سماج کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ کالونیل ازم اور بیرونی اثرات ہیں۔ اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جن مسائل کو ہم بنیاد بناکر بحث کرتے ہیں تو پھر ان کی تاریخی پس منظر میں جاننے سے کیوں کتراتے ہیں۔ یہ بنیادی مسائل جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان مسئلوں کو جواز بناکر ایک قوم کی سماجی ساخت مشکوک بنانا انصاف کے تقاضے نہیں ہیں۔
بلوچستان و بلوچ سماج کے حوالے سے ہر وقت جو بھی لکھا یا بولا جاتا ہے وہ یہی دو تین معاملات کو جواز بنا کر بلوچوں کی تاریخ، سماجی و سیاسی ساخت کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ”بلوچوں کو پسماندہ رکھنے میں ان کے سرداروں کا ہاتھ ہے“ بلوچ اپنے خواتین کو پڑھنے نہیں دیتے، بلوچ سماج میں خواتین سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں، بلوچستان میں خواتین کو زندہ درگور کیا جاتا ہے یا بلوچ سیاست میں مردانہ رویے کی وجہ سے خواتین کی تعداد کم ہے۔ اب ان تمام باتوں کے بنیاد پر رائے صادر کی جاتی ہے کہ بلوچ سماج پدر شاہی ہے۔ اور پدر شاہی کو اس مرد سے جوڑتے ہیں جو خود اس جبر و استحصال پر مبنی نظام کا شکار ہے۔ اب کوشش کرتے ہیں ان نکات پر سنجیدگی سے بحث کیا جائے۔ سب سے پہلے یہ سوال جنم لیتی ہے کہ موجودہ سرداری نظام خود کس کی پیداوار ہے؟ اس ناسور سرداری نظام کو آج تک کون اور کس لیے توانائی فراہم کررہی ہے؟ آج کی زمینی حقائق یہ ہیں کہ وہ نظام جس کو آپ سرداری کہہ کر پوری ایک قوم کی سماجی حیثیت کو مسخ کررہے ہیں، وہ بذات خود کوئی نظام نہیں بلکہ ایک سرکاری مشینری ہے۔
دوسری بات بلوچ اپنے خواتین کو پڑھنے نہیں دیتے۔ یقیناآپ یہ سوال کرنے کی جسارت ہر گز نہیں کرینگے کہ بلوچستان میں خواتین کے کتنے اسکول اور کالج موجود ہیں؟ جس میں جاکر بلوچ خواتین پڑھیں۔ ایک بلوچ والد اپنے بچیوں کو پڑھانے کے لیے کوہ سلیمان اور مکران سے ہزاروں کلومیڑز دور کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج سکتا ہے، تووہ بلوچ والد لڑکیوں کی تعلیم میں ہرگز رکاوٹ نہیں ہوسکتا ہے۔ رہی بات معاشی برابری کی تو یہاں پھر یہی سوال دہرائی جائے گی کہ بلوچستان کے کس علاقے میں انڈسٹری لگائی گئی ہے جس میں بلوچ خواتین معاشی حوالے سے خود کفیل ہوجائیں؟ بلوچستان میں تو مرد بھی معاشی حوالے سے خود کفیل نہیں ہیں۔ انڈسٹری لگانا مرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تعلیم دینا مرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جہاں تک خواتین کی سماجی تحفظ کی بات ہے تو بلوچ خواتین کو اپنے تحفظ کے حوالے سے خطرہ مرد سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔ وہ گذشتہ کئی سالوں سے جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا، ٹارگیٹ کلنگ، فوجی تشدد کا شکار ہے۔ بات بلوچستان میں خواتین کی سیاست کی ہے تو وہ گذشتہ کئی عشروں سے سیاسی و سماجی معاملات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہی ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے بلوچ خواتین لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے تحریک چلارہے ہیں۔ آج بھی طلبہ سیاست اور عوامی سیاست میں انتائی اہم کردار ادا کررہیں۔ لیکن پھر وہی سوال اُٹھتی ہے آیا وہ لوگ بلوچ سماج کو تنقید کرکے کہتے ہیں کہ خواتین کی تعداد سیاست میں انتائی کم ہے ان لوگوں نے کبھی ایمانداری سے یہ جاننے کی کوشش ہے کہ وہ بلوچ خواتین جو مسنگ پرسنز تحریک سے لیکر طلبہ سیاست کررہے ہیں اُن کو کیا کیا مشکلات درپیش ہیں؟ بلوچ خواتین کو سیاست میں مشکلات مرد کی جانب سے نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے ہے۔ وہ بلوچ خواتین جو طلبہ سیاست میں فعال ہوجائے تو دوسرے دن اس کی گھر میں دھمکی آمیز کال آجاتی ہے خاموش نہ ہونے کی صورت میں گھرکے مردوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
اس بحث کا ہرگز یہ مراد نہیں کہ بلوچ سماجی ساخت میں کوئی کمزوری یا برائی نہیں ہے۔ یقیناً اس کررہ ارض کی تمام سماجوں میں کمزوری اور برائیاں ہیں، جس میں بلوچ سماج بھی شامل ہے۔ لیکن اس پر سنجیدگی کے ساتھ تاریخی پس منظر میں بحث و مباحثے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کو جواز بنا کر بلوچ کے حقیقی مسئلے اور سماجی ساخت کو مسخ کیا جائے۔ بلوچستان میں بلکل خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے، ہر فورم پربھر پور شدت کے ساتھ آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے لیکن بلوچ خواتین کے حقیقی مسئلے کو سمجھ کر آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچ خواتین کی اجتماعی سزا کے خلاف آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچ خواتین عسکری تشددکے شکار ہیں، اس کی خلاف آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
بلوچ خواتین ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین کی زندگی گذار رہے ہیں اُن کو اپنے گھروں میں واپس لانے کے لیے آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچ خواتین کی سیاست کرنے کے راہ میں رکاوٹ اُن قوتوں کے خلاف آوز اُٹھانی چایئے جو بلوچ خواتین کے گھروں میں دھمکی آمیز کال کرتے ہیں۔ ان قوتوں کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیے جو اُن مذہبی شدت پسندوں کی پشت پناہی کررہے ہیں جو بچیوں کی اسکول اور اسکول وین پر حملہ کرتے ہیں۔ا ُس ریاست سے سوال کرنی چاہیئے جس نے ہر شہری کو تعلیم، صحت اور روزگاردینے کا وعدہ کیا ہے، بلوچستان میں ہزاروں خواتین ہسپتال نہ ہونے کے سبب دوران زچگی انتقال کرچکے ہیں، بلوچستان میں ہزاروں خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہیں۔ اب یہاں ہسپتال قائم کرنا مرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اس تمام تر ڈسکشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بلوچ خواتین کو پسماندہ رکھنے اور اس استحصال کا ذمہ دار مرد نہیں بلکہ جبر و استحصال پر مبنی نظام ہے جس میں مرد و خواتین شکار دونوں یکساں شکار ہے۔ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے اس نظام سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں بلوچوں کے حقیقی مسئلوں پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچ خواتین کے مسئلوں کو سمجھ کر کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں مرد کے خلاف بات کرنے کی نہیں بلکہ جبر و استحصال پر مبنی نظام پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: