بولی کا دودھ کیا ہے اور اسکی اہمیت

119

(Colostrum)

بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو قدرتی نظام کے مطابق اسکے جسم میں خطرناک بیکٹریا اور وائرس سے لڑنے کی خاطر خواہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ماں کا دودھ جسے ہم عام زبان میں بولی کہتے ہیں، وہ بچے کے مزاحمتی نظام کو خطرناک وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف مضبوط کرتا ہے۔ بولی کے دودھ میں ایک خاص قسم کی پروٹین شامل ہوتی ہے جو گائے کے خونی خلیے بناتے ہیں اور اسکو آئی جی سے ظاہر کیا جاتا ہے- کیونکہ بچے کے جسم میں یہ یہ خاص پروٹین آئی جی پیدائش کے وقت موجود نہیں ہوتے لہذا یہ بچے کو جلداز جلد مہیا کرنا بہت ضروری ہے ورنہ بچے کی پہلے ہی دن موت واقع ہوسکتی ہے۔

:بولی کے دودھ پلانے کا مناسب وقت

بعض لوگوں کی رائے ہوتی ہے کہ بچے کو پہلے دن گائے کے تھنوں سے خود بولی دودھ پینے دیا جائے۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ ایک غلط فیصلہ ہوسکتا ہے۔کیونکہ بولی کے دودھ میں آئی جی پروٹین بچے کو 24 گھنٹے کے اندر اندر مل جانی چاہیں۔ اور اگر بچے کو خود دودھ پینے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کی مناسب مقدار حاصل کرنے میں تاخیر کردے گا۔وہ تھنوں کو تلاشنے میں وقت کا ضیاع کرسکتا ہے اور پروٹین کے حصول کے لیے ایک غیر یقنیی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ایک اور بات بتانا چاہوں گا کہ بچے میں پیدائش کے پہلے گھنٹے میں اس خاص پروٹین آئی جی کو جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے جو وقت گرزنے کےساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ اور چوبیس گھنٹوں میں بالکل ختم ہوجاتی ہے لیکن ابتدائی گھنٹے ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ لہذا اس میں تاخیر نہیں کی جانی چاہیے ورنہ بچے اسی دن وائرس اور بیکٹریا کے حملے کا شکار ہوسکتے ہیں۔بچوں کا اپنے پاوؑں پر جلد کھڑا ہونا آنتڑیوں میں آئی جی پروٹین جذب ہونے کو تیز کرتا ہے۔

:بولی کے دودھ پلانے کی مناسب مقدار

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ بولی پلانا درحقیقت آئی جی نامی پروٹین پلانا ہوتا ہے لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ بچے کو کتنی آئی جی پروٹین درکار ہے جسکا انحصار بچے کے جسمانی وزن ،پہلی فیڈ پر اسکی عمر گھنٹوں میں اور بولی کے دودھ میں کتنی مقدار میں آئی جی پروٹین موجود ہے، ان سب عناصر پر ہوتا ہے۔اگر بچے کو کم مقدار میں آئی جی پروٹین دی گئی تو بچہ خطرے سے باہر شمار نہیں کیا جائے گا۔
عموما بولی کی مقدار دو کوارٹز دی جاتی ہے۔ کوارٹز پیمانے کی اکائی ہے جو لیٹر سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہے۔( ایک امریکی کوارٹ 0.946 لیٹر کے برابر ہوتا ہے۔)

کیا یہ دو کوارٹز مقدار کافی ہوتی ہے؟ اسکا تفصیل میں تجزیہ کرتا ہوں۔

ایک ریسرچ کے ڈیٹا کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد چوبیس گھنٹے تک کی عمر میں اسکے بلڈ پلازمہ کا حجم اس بچے کے وزن کا قریباً 9% ہوتا ہے ۔ بلڈ پلازمہ خون کے مائع کا وہ حصہ ہوتا ہے جو خونی خلیوں اور پورے جسم میں پروٹین کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ریسرچ ڈیٹا کی بنیاد پر بلڈ پلازمہ میں آئی جی پروٹین کی کم از کم مقدار کو 10 فی لیٹر بلڈ پلازمہ مختص کیا گیا ہے۔
یعنی اگر اس بچے کا وزن 40کلوگرام ہو تو اسکا بلڈ پلازمہ مائع قریباً 3.6 لیٹر ہوگا۔ اور اس میں آئی جی پروٹین کی کم از کم درکار مقدار گرام3.6×10= 36 ہونی چاہیے۔

یعنی اس بچے کو چوبیس گھنٹے کے اندر 36 گرام آئی جی پروٹین ضرور ملنی چاہیے۔ لیکن یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ بچہ بولی کے دودھ مییں دی جانے والی آئی جی پروٹین 100% کارکردگی کی بنیاد پر جذب نہیں کرپاتا۔ تجربات سے اس پروٹین کے جذب ہونے کی اوسط کارکردگی 35% ہوتی ہے۔ لہذا بلڈ پلازمہ میں کل 36 گرام پروٹین کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں بولی کے دودھ میں درج ذیل آئی جی پروٹین کی مقدار درکار ہوگی

(36/35)x100 = 103 گرام

عموماً بولی کے دودھ میں آئی جی پروٹین کی مقدار 50 گرام فی لیٹر ہوتی ہے۔ لہذا 103 گرام بچے کو دینے کے لیے ہمیں 2.1 لیٹر بولی 24 گھنٹے کے اندر پلانا ہوگی۔

بولی کے دودھ کی یہ مقدار کم از کم مقدار ہے جو بچے کو 24 گھنٹے کے اندر دی جانی چاہیے۔ احتیاط کے طور پر آئی جی پروٹین کا پیمانہ 10 گرام کی بجائے 15 گرام فی لیٹر بلڈ پلازمہ کم از کم رکھا جانا چاہیے۔ اور اس طرح کم از کم مقدار 154 گرام ہوجائے گی جو بچے کو محفوظ رکھے گی۔اسکے لیے قریباً 3 لیٹر بولی پلانا ہوگی۔

اوپر کیے گئے تجزیے سے آپکو بولی کی اہمیت اور اسکی کم از کم مقدار کا تعین کرنے میں آسانی ہوگی۔ تجویز کردہ بولی کی مقدار چوبیس گھنٹوں میں کم ازکم تین لیٹر سے سات لیٹر تک ہے جس میں تین لیٹر ابتدائی تین گھنٹوں میں دینا زیادہ بہتر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: