“وڈیوز آرڈیننس ریفرنس سینٹ اور جمہوریت”

34

توجہ دلاو_نعیمہ کشور خان

ہمارے ملک میں جو وفاقی طرز حکومت ہیں۔اور قومی اسمبلی میں چار وں اسمبلیوں کو برابری حاصل نہیں۔لہذا چاروں اکائیوں کو برابری کی نمائندگی دینے کے لئے سینٹ کا ادارہ بنایا گیا۔جو کہ 14اگست1947 کو مستقل رہنے کے لئے بنایا گیا اور ہر تین سال بعد اسکے آدھے ممبر ریٹائر ہو کر نئے ارکان چھ سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔لیکن افسوس یہ بھی ڈکیٹیٹر شپ کے تاریکی میں معطل رہا۔آجکل پھر 2021 کے سینٹ الیکشن کا شیڈول جاری ہوچکا ہیں۔لیکن ایسا لگتا ہین کہ ملک میں پہلی بار حکومت سینٹ الیکشن کرا رہی ہیں۔اتنی کنفیوز اور بھوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔اور بھوکھلاہٹ کی وجہ شائد پی ڈی ایم کا سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کے اعلان سے ہوا۔کیونکہ اس اعلان کے بعد وزیراعظم اور وزراء نے بیک آواز کہنا شروع کیا کہ وقت سے پہلے سینٹ الیکشن کرینگے۔جبکہ آئینی طور پر ایک مہینہ پہلے الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں۔پھر جب ادھر سے ناکامی ہوئی تو پھر سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا گیا۔پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار کی بجائے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم لے آئے۔یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے پاس اس ترمیم کو پارلیمنٹ سے پاس کرنے کے لئے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔اسکے لئے اپوزیشن سے بات کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں گالم گلوچ اور الزامات سے بھرپور تقاریر شروع کی۔اور وزراء نے خود پارلیمنٹ میں کورم کی نشاندہی کرکے اجالاس نہیں چلنے دیا۔جس سے قانون سازی میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہیں۔پھر اجلاس ملتوی کر کے صدر کے آرڈنینس فیکٹری سے فٹافٹ تازہ بہ تازہ آرڈنینس نکالا۔جسکو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کر دیا گیا۔اب سپریم کورٹ پر دباؤں بڑھانے کے لئے تحریک انصاف نے اپنے ہی پارٹی کے اپنے اراکین کے اپنے وزیراعلی کی اپنی بنائی ہوئی ویڈیوں جاری کردی۔پہلے دو ڈھائی سال انکو ترمیم کا خیال نہیں آیا۔ اخری وقت پر پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا وہاں پر الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں نے جب مخالفت کی تو واپس پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم اور پھر مشروط آرڈیننس۔اب الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا ہیں۔اگر کورٹ نے فیصلہ دےدیا کہ سینٹ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت نہیں۔اور سادہ قانون سازی سے اس میں ترمیم ہوسکتی ہیں۔تو اس آرڈیننس کے تو ابھی رولز نہیں بنے۔اس میں جو الفاظ “اوپن بیلٹ”اور”قابل شناخت”بیلٹ کے الفاظ شامل ہیں اس کا کیا مطلب ہیں۔سینٹ کے ووٹ میں تو مختلف ترجیحات یعنی ایک دو تین چار ہوتی ہیں۔اب اگر ہاتھ کھڑا کرنا ہو تو پھر ایم پی ایز کو پہلی ترجیح میں کتنا ہاتھ کھڑا کرنا ہوگا دوسری اور تیسری ترجیح میں کتنا ۔یعنی جبتک اسکے رولز نہیں بنتے یہ آرڈنیننس واضح نہیں۔اب 25 فروری کے بعد الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کرنی ہیں۔3 مارچ کو الیکشن ہیں۔اب ان تقریبا بیس دنوں میں سپریم کورٹ نے فیصلہ بھی دینا ہیں۔اگر حکومت کے حق میں آیا تو پھر رولز بنا کر منظور بھی کرنے ہوگے۔اور لاگو بھی کرنے ہوگے جو کہ ناممکن ہیں۔کیونکہ رولز میں بھی اکثر کئی مہینے اور سال لگ جاتا ہیں۔پھر سب سے مضحکہ خیز بات یہ کہ ارڈنیننس کا وقت 120 دن ہوتا ہیں اب سینٹرز جو چھ سال کے لئے منتخب کرنے ہیں اسکے لئے ارڈنیننس ایک سو بیس دن کا۔یعنی پہلے تو آئینی ترمیم اسکے لئے لازمی ہیں لیکن اگر کورٹ نے یہ ملبہ اپنے سر لیکر سادہ قانون سازی کے حق میں فیصلہ دیا ۔تو پھر بھی پارلیمنٹ کو مستقل قانون سازی کرنی ہوگی۔اب پارلیمنٹرین کاکام قانون سازی ہیں ۔وہ کام صدر کے آرڈنینس فیکٹری کررہا ہیں۔و ممبران کیا کریں۔انکوں بدنام کرنے کے لئے ویڈیوز خود بنا کر جارہی کرہے ہو۔تو پھر بلوچستان حکومت گرانے اور سینٹ چئیرمئین کے الیکشن میں جو کچھ ہوااسکی بھی ویڈیوز ریلز ہونی چاہئے
اور تحقیقاتی کمیٹی پرویز خٹک اور اسد قیصر سے تحقیقات کیوں نہیں کرہی۔جمہوری ادارے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بدنام کی جارہی ہیں۔قومی اسمبلی میں پہلے ہی ایسے لوگوں کو داخل کیا گیا۔اور وہاں جو ماحول ہوتاہیں سب کہ سامنے۔اب سینٹ جو وقاق کی اکائی کی علامت ہیں۔اسکو بھی ویڈیوز سے بدنام اور قانون سازی کے نام پر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرکے آئین کو پامال اور سینٹ الیکشن کو متنازع بنایا جارہاہیں۔اگر پیسے کا استعمال اور ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ کرنا تھا۔ تو بروقت تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر جامع پیکج الیکشن ریفارمز کا لاتے۔یا آسان حل متناسب نمائندگی کا طریقہ کار تمام الیکشن کے لئے لایا جائے۔اور اب بھی وقت ہیںکہ ہر سیاسی جماعت باہم ملکر اتنے امیدواروں کو کھڑا کرے جتنی اسمبلیوں میں انکے نمائندے ہیں۔تو کسی شو آف ہینڈ کی ضرورت نہیں ہوگی۔لیکن خدارا ان ویڈیوز آرڈننیسز آور ریفرنس سے پارلیمنٹ کو مزید بے وقت نہ کرے۔
شکریہ
نعیمہ کشور خان

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: