عوام کی سسکیاں، ولید احمد یوسفزئی

54

یا تو انسانیت ختم ہوچکی ہے یا عوام کو اس طرف لایا جارہا ہے کہ تم سب غلام ہوں جو کچھ تم لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے تم لوگ ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔بات یہ ہے کہ ہمیں اسلام آباد میں سیکورٹی چاہئے یا بلوچستان میں جہاں گیارہ لوگ بے گناہ ذبح کردئے گئے ان کا قصور کیا تھا؟

حکومت وہی روایتی وعدے کرکے لوحقین کو چپ کروادیتی ہے۔لیکن حقیقت میں کچھ نہیں کرتے ۔اور یہ بات سچ ہے جو کام جس بندے کا ہے وہ کام نا اس سے لیا جارہا ہے اور نہ وہ کررہا ہے۔کیونکہ پاکستان کو وہ اپنی مرضی سے چلانا اور جلانا چاہتے ہے جس کی مثال آپ لوگوں کے سامنے اسلام آباد میں ایک بچے کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا۔اور ہزارہ برادری تو کب سے ان چیزوں کو جٙھیل رہی ہے۔

ہمارے ملک میں نا تو قانون صحیح لوگوں پر لاگو ہوتا ہے اور نہ قانون کے رکھوالے اس کے عوام کی صحیح حفاظت کرتے ہے۔کبھی ڈرون ڈرون ہمارے ساتھ کھیلا جاتا ہے،کبھی خودکش دھماکوں سے ہمیں مارا جاتا ہے،کبھی نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا تو کبھی ماردیا جاتا ہے اور بوری بند لاشیں مل جاتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ عدالتیں کیا کررہی ہے؟، ریاست کیا کررہی ہے؟ ہم ان سے اپنے حفاظت کا سوال کرے یا نہیں ؟ یا اپنوں کے سروں کے بدلے چند لاکھ روپے لیکر منہ بند کرلے، پاکستان میں قانون اور نظام کے یہ حالات ہے کہ راوُ انوار صاحب کو دیکھ لو نقیب اللہ محسود کے والد کو انصاف ملا؟ مشال کے والد کو انصاف ملا بہاولپور میں شک کی بنیاد پر فیملی پر فائرنگ کرکے ان کو شہید کیا اس کیس میں حکومت نے انصاف دلایا کروڑ روپے دیکر ان سے کہا اپ لوگ آرام سے چپ ہوجاوُ یہ ہے میرا دیس پاکستان جہاں اگر دہشت گردوں کے خلاف بات کروں گے بھی تو مارے جاو گے اور اگر کسی اور کے خلاف بھی تو کچل دئے جاوُں گے۔

تبدیلی سرکار کا علمبردار کہتا تھا میں اداروں میں تبدیلی لاوں گا سب نے اس کا ساتھ دیا ۔اور اس کو منتخب کیا جناب کہاں ہے وہ تبدیلی کس ادارے میں تبدیلی آئی۔این آر او اور کرپشن کے نعرے ہم نے سنے ہیں بقایا لوگ کو بھوک سے مار ہی ہی رہے ہوں لیکن خدارا ذبح تو نا کرو یہ ذبح کرنا اور کروانا تو طالبان کا دیکھا تھا ہم ریاست پاکستان کے ایک صوبہ میں قابل افسوس ہے اور حفاظتی اداروں اور حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔ ہم کشمیر اپنے دل کے ساتھ لگاکر رکھتے ہیں تو بلوچستان کے لوگوں سے محبت کیوں نہیں کرلیتے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم بلوچستان کے پڑھے لکھے بچوں کو بھی شک کی بنیاد پر مار لیتے ہیں اور شہر اقتدار میں یہ کام شروع ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

انگار

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: