انسان کی حقیقت اور اہمیت، آسیہ روبی


  اَلسَــــــلامُ عَلَيْــــــكُم وَرَحْمَـــــةُ اَلـلـهِ وَبَرَكــــاتُـــهُ‎

کہیں فرشتوں سے بلند ہے اس کا مقام

کہیں شیطان کو بھی مات دے یہ انساں

ایک انسان کیا پوری کائنات کی اہمیت بھی اﷲ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے جتنی بھی نہیں اس کے باوجود بھی اس رب العالمین نے اس انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اپنا خلیفہ بنا کر فرشتوں سے اوپر درجہ عطا فرما کر انسان میں اپنی طرف کی روح پھونکی، ایک مقصد حیات دیا با اختیار بنا کر سب سے زیادہ لاڈلی مخلوق بنایا اس سے زیادہ انسان کی اہمیت اور کیا ہوگی،

لیکن اس قدر قیمتی انسان کو بنایا کس سے؟

پہلے ہم قرآن کے مطابق جائزہ لیتے ہیں

ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا ۔سورہ الحجر

جس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے ۔۔ سورہ الطہٰ

ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا۔ سورہ المومنون

اب ان سے پوچھو ، ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ۔ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے ۔ سورہ الصافات

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو ۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو۔ سورہ غافر

تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے
سورہ یٰس

انسان کو ہم نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا۔ ۔سورہ الرحمٰن

اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا، پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ سورہ الانعام

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ،  پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کر دی ، اور ایک دوسری مدّت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے ۔ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو .. سورہ الانعام

اس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحا وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا۔۔ سورہ النحل

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا ، پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے, تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے ۔ سورہ الفرقان

تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ زندہ اٹھانا تو بس ایسا ہے جیسے ایک جان کو۔ حقیقت یہ ہے کہ اﷲ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔۔ سورہ لقمان

پھراُس کو درست کیا اور اُس نے اِس میں اپنی روح پھونکی اور اُس نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ سورہ السجدہ

چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔۔۔جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ سورہ الطارق

ان آیات میں اﷲ تعالی نے انسانی زندگی کے کیمیائی اور حیاتیاتی ارتقا کے بارے میں بیان کردیا انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء کم و بیش سات مرحلوں سےگزر کر تکمیل پذیر ہوا جو یہ ہیں

تراب۔۔۔۔Inorganic matter

ماء۔۔۔۔ water

طین….Clay

طین لازب۔۔۔ absorbable adsorptive

صلصال من حماء مسنون….Old, physically and chemically altered mud…

صلصال کالفخار۔۔۔ dried and highly purified clay

سلالہ من طین۔۔۔۔ Extact of purified clay

قرآن میں انسان کے جسم کی تیاری میں مٹی, پانی اور گارے کا بھی ذکر آتا ہے اور نطفہ کا بھی، اور سلالہ کا بھی ،

ابو القاسم الحسین بن محمد کے مطابق سلالہ من طین سے مراد مٹی میں سے چنا ہوا وہ جوہر جسے اچھی طرح میلے پن سے پاک صاف کر دیا گیا ہو

رسول صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے ۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترتیب دی جاتی ہے ۔ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں ۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے اور ایک جاندار انسان بن جائے ۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے ۔ وہ بابرکت اﷲ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے

حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہینے گزر جاتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑبن آتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے پھر بالکل ہی بوڑھا ہوجاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہوجاتا ہے ۔ واﷲ اعلم

صادق و مصدوق آنحضرت محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اﷲ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الہٰی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی ، اجل ، عمل ، اور نیک یا بد ، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آجاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہوجاتا ہے ۔ ( بخاری ومسلم وغیرہ ) حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہوجاتی ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے باتیں بیان کررہے تھے کہ ایک یہودی آگیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ آپ ﷺ سے پوچھا کہ “انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے ۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔ اس نے کہا ۔ آپ ﷺ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے ایک دفعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے بعد ایک قبر کے پاس سے گزرے آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہ سے دریافت فرمایا یہ کس کی قبر ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم فلاں حبشی کی ہے اس پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لاالہ اﷲ پڑھ کر فرمایا اسے اسکی زمین اور آسمان سے اس مٹی میں لایا گیا جس سے اس کی تخلیق کی گئی تھی

حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے

ریسرچ کے مطابق  انسانی جسم لاتعداد سیلز کا مجموعہ ہے جسے ڈی این اے یعنی DeoxyriboNucleic Acid کہا جاتا ہے، یہ سو ملی میٹر سے بھی چھوٹا ہوتا ہے،  مگراس کے ذریعے انسان کی پوری ہسٹری، اس کی نسل ہے، عادات، رنگ، بال، سب کچھ سکین ہوجاتا ہے، پھر اس کے اندر تمام بیماریوں یا کینسر نما چیزوں سے مقابلہ کرنے کی بھی قوت موجود ہوتی ہے، دنیا کے ہر ایک انسان کا ڈی این اے دوسرے انسان سے مختلف ہے فنگر پرنٹ کی طرح، آج انسان اتنی ترقی کے باوجود بھی اتنا سب کچھ کاپی کرنے یا لکھنے کے لئے کتنی جگہ گھیرے گا؟ مائیکرو سے مائیکرو چیز بھی اس قدر مائیکرو سیل میں اتنا ڈیٹا آج تک فیڈ نہیں کر پائی، نہ صدیوں تک امید ہے، ایک نہایت چھوٹے سے ذرے جو خوردبین سے نظر آتا ہے، اس ایک ڈی این اے کے اندر پوری کائنات بسی ہے

سائنس کے مطابق انسان پانی ، کاربن، آکسیجن اور کچھ مزید کیمیائی عناصر کو ملا کر بنایا گیا ہے، جو نہایت سستی چیزیں ہیں، لیکن اس قدر سستی چیزوں سے اس قدر قیمتی انسان بناکر اس کی قیمت بھی بتادی، حتیٰ کہ انسانی عضو گنوائے اور ان کی اہمیت بھی بتادی،کسی بھی عضو کی قیمت و اہمیت جاننے کے لیے اس عضو سے محروم انسان کا مشاہدہ کر لیں، ڈھیروں دولت بھی آپ کو وہ عضو قدرت کے جیسا مکمل عضو نہیں دلا سکتی، ایک عضو بھی کو قدرت کے برابر نہ بنا سکا ہے نہ بنا سکتا ہے، اسی طرح اوپن ہارٹ سرجری کا کس طرح سے سورۃ الم نشرح میں بتا رہا ہے کہ سینہ چاک کیا، اس کی تفسیر میں پوری تفصیل درج ہے کہ سینے کو کس طرح سے کاٹ کر دل کو نکال کر دھونا، اور  DNA اور فنگر پرنٹ کا بھی قرآن میں چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا،

دنیا کا بہترین سنگ تراش یا پینٹر یا بڑے سے بڑا سائنس دان بھی آج تک جسم کا ایک عضو تک نہیں بنا سکا، حتیٰ کہ دنیا بھر کی دولت خرچ کرکے بھی کسی مرتے ہوئے انسان کو بچا نہیں سکتا،مائیکل جیکسن کا واقعہ تو سب ہی جانتے ہیں، کہ اپنی زیادہ سے زیادہ لمبی زندگی کے لئے کس قدر انتظام کرکے بیٹھا تھا،مگر اس کو ایک پل کی بھی پہلت نہ مل سکی، ایسی عبرت ناک لاتعداد مثالیں ہر طرف موجود ہیں، جو سب ہی جانتے ہیں، اور ہارٹ سرجری یا کوئی بھی عضو کی تبدیلی سے انسان پہلے جیسا صحت مند دل یا زندگی بھی حاصل نہیں کرسکتا

اس کی مثال اﷲ نے اتنی پیاری دی ہے کہ عام انسان تو دور جن کو معبود یا خدا مانتے ہیں ان کے لئے فرمایا اﷲ نے کہ

لوگو ، ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو ۔ جن معبودوں کو تم اﷲ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے ۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔

سُبْحَانَ اللَّهِ

تو انسان اس پر کیوں غور نہیں کرتا؟ اﷲ تعالیٰ کی بڑائی کو دل سے تسلیم کرکے سرنگوں کیوں نہیں ہوجاتا اس کے سامنے؟ کیوں اس کی ذات سے ہی کہیں انکاری ہے، تو کہیں ایمان لا کر بھی اپنی من مانی کرتا پھرتا۔

اﷲ تعالیٰ انسان کو قرآن میں ایک طرف اپنا نائب یا خلیفہ بتاتا ہے، تو دوسری طرف اس کو خطا کا پتلا کہا

سب بڑا جھگڑالو اور سب سے بڑا ناشکرا بھی کہا

بہادر سے بہادر انسان بھی کسی دیوہیکل جانور کو سب سے خطرناک سمجھتا یے، مگر اﷲ تعالیٰ نے فرمادیا کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ تو اس بات کی مثال کے لئے آپ فروعون و نمرود، ہٹلر جیسے ان گنت انسان دیکھ لیں جنہوں نے دنیا پر کس قدر تباہی مچائی، وہ بھی ہوش و حواس میں، یعنی جانور اگر کوئی تبائی مچائے بھی تو وہ دماغی توازن کھو کر کرتا ہے، پھر
ایک طرف انسان کو اشرف المخلوقات بتا دیا تو دوسری طرف انسان کو خسارے میں کہا
ایک طرف انسان کو بااختیار بنادیا، کبھی وہ نمرود کی عمارت جو آج کے برج دبئی سے کہیں زیادہ بلند و بالا تھی، کہیں اہرام مصر تعمیر کرتا ہے، کہیں چاند پر پہنچ رہا ہے، کہیں پہاڑ سر کرتا ہے، تو کہیں اوپن ہارٹ سرجری، حتیٰ کہ اب پورا سر بھی ٹرانسپلانٹ کر رہا ہے، کہیں روبوٹ، اور مزید ان گنت ٹیکنالوجی بنا رہا ہے تو کہیں چاند اور دوسرے سیاروں پر پہنچ رہا ہے،مگر دلچسپ پات یہ ہے کہ جتنی زیادہ ترقی کر رہا ہے ﷲ اور قرآن کی حقانیت میں اضافہ ہورہا ہے، حیرت اور قدرت کی کاریگری سے دل مزید جھکتا جاتا ہے، سُبْحَانَ اللَّهِ

جب کہ انسان کی یعنی سائنس کی ریسرچ جو کئی سال تک بچوں کو پڑھائی جاتی ہے، وہ کچھ عرصہ بعد کسی دوسرے انسان کی ریسرچ پر غلط ثابت ہو جاتی ہے، جیسے پہلے ہم نے پڑھا سیارے نو ہیں مگر بعد میں یہ حقیقت بدل گئی،

مگر قرآن میں ایسی حقیقتیں یا سائنس ہے جو دن بہ دن زیادہ لوگوں سے اپنا لوہا منوا رہی ہے، اﷲ تعالیٰ نے سورہ الملک میں فرمادیا کہ نگاہ اٹھا کر دیکھو تو کوئی شگاف پاتے ہو پھر اٹھاؤ یعنی بار بار اﷲ تعالی غور کرنے کا حکم دیتا ہے کہ آسمان کی طرف دیکھو غور کرو اور اس کو جانو اس کو پہچانو، اسی طرح عاد و فرعون کی لاشیں اور آثار کا بھی قرآن پہلے سے تفصیل سے ذکر فرما چکا تھا

اﷲ کی چودہ سو سال پہلے کہی گئی کسی بات کو بھی آج تک جدید سے جدید سائنس بھی غلط نہیں کر سکتی، بلکہ اﷲ کی باتوں کو جدید سے جدید زمانہ و انسان مزید تسلیم کر رہا ہے

یہ اختیار اور پاور اس نے نہ فرشتوں کو دیا، نہ کسی دوسری مخلوق کو
اسی مخلوق کو دیا اور اتنی نافرمانیوں کے بعد بھی کبھی ہر سہولت فراہم کرتا رہے تو کبھی دنیا بھر کو طوفان نوح کے ذریعے نیست و نابود کردے
کیسی کیسی عجیب ہے قدرت کی کاریگری، ایک کرشمہ دیکھیں تو عقل دنگ رہ جائے، بنا ستون کے آسمان بنایا، ہزاروں سال سے ایستادہ ہے، ہوا میں بنا سہارے کے اڑنے والے کمزور پرندوں کو کون گرنے سے روکتا ہے؟
انسان خود جو کتنا بڑا عجوبہ ہے؟
مگر انسان ہے کہ معترف اور مزید احسان مند ہوکر مزید بندگی کی بجائے تڑاخ پڑاخ بولتا ہے، کوئی اپنے اس خالق حقیقی سے ہی انکاری ہو کر اس سے اس کی ہی ذات کے ثبوت طلب کرتا ہے؟؟ابوجہل جو مکے کا بیحد عقل والا اور قابل انسان مانا جاتا تھا، وہ بھی ایک بوسیدہ ہڈی لے کر بحث کرتا آیا کہ یہ کیسے زندہ ہوگا؟ اتنی سی عقل نہ آئی کہ پہلے بنانا زیادہ مشکل ہے یا ری سائیکل کرنا۔
کوئی ایمان لا کر بھی شرطیں رکھتا ہے کہ اگر ایسا ہو تو میں مان لوں گا، ویسا ہو تو مان لوں گا

حیرت ہے کہ شیطان بھی اﷲ سے انکاری نہ ہوا بلکہ آج بھی وہ اﷲ سے ڈرتا ہے، وہ انسان سے انکاری ہوا انسان کا دشمن بنا
اﷲ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ دیکھے، جانے اور جان کر دیکھ کر اختیار رکھ کر وہ اﷲ تعالٰی کے کرشمات اور قدرت کا مظاہرہ کرکے اﷲ کو مانے اور اس پر دل سے ایمان لائے اور اﷲ تعالیٰ کی بڑائی کو دل سے تسلیم کرے اس کی قربت اختیار کرے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی اہمیت و قیمت اگر فرشتوں سے بلند ہے تو پھر کیوں اتنا بے قدر اور حقیر کہا جارہا ہے؟
دراصل انسان کو اشرف المخلوقات ، اہم، اللہ کا خلیفہ، قیمتی اور انمول اﷲ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کے تحت اس کے اعمال بناتے ہیں، کبھی یہ اعمال اس کو پیغمبر یا خاص بنا دیتے ہیں تو کبھی یہی اعمال اسکو نمرود، فرعون یا ہٹلر

کبھی یہ اعمال عمر بن خطاب کو عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بنادے تو کبھی عمر بن ہشام سے ابو جہل بنادے

اتنا با اختیار ہوکر بھی اﷲ کی اپنے اندر روح کو پہچانتا ہے یا نہیں، اﷲ کی حقانیت کا اقرار کرتا ہے یا نہیں، اس کے کمالات اور قدرت پر کتنا یقین رکھتا ہے
اگر وہ اپنی ذات کو مانتا ہےجو اﷲ کی پیدا کردہ ہے، اﷲ تعالیٰ کی طرف کی اپنے وجود میں پھونکی گئی روح کو مانتا ہے، اپنے آپ کو حقیقت جانتا ہے اور مانتا ہے تو اس کو اس سے بہت زیادہ اعتراف محبت، ایمان و یقین اپنے خالق پر ہونا چاہیے،وہ بھی اپنی مرضی اور خوشی اور اختیارات کے ساتھ،

اپنے وجود کی صورت میں اﷲ کی بڑائی اور قدرت کو تسلیم کرے، قدر کرے، لیکن غرور کی نظر سے نہیں، اﷲ کی امانت و کرشمہ سمجھ کر۔

اللّہ کی سب سے لاڈلی مخلوق یہ انسان ہی ہے جس کواللہ توالیٰ کی اتنی محبت اتنا خاص بنا دیتی ہے،
شیطان ہر مخلوق و ملائکہ میں سے سب سے اہم اور لاڈلا ہونے کے باوجود صرف اس انسان کی اﷲ کے حضور اہمیت اور محبت دیکھر حسد کی آگ میں برباد ہو گیا.
اور ایک یہ ہم انسان ہی ہیں جو پھر بھی اپنی اہمیت سے آگاہ نہیں, اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ بنائے ہم نے یہ زمین و آسمان  کھیل کود کو۔

انسان کو اس کی ابتدا میں ہی اﷲ تعالیٰ نے سب سے ضروری سبق دے دیا، شیطان کے حسد و غرور کے ذریعے کہ اگر وہ اﷲ تعالیٰ کا سب سے لاڈلا، مقرب اور پیارا ہوکر بھی مردود بن سکتا ہے تو انسان ہمیشہ حسد و اپنی ذات پر غرور سے بچتا رہے، عاجز رہے، میں حیرت زدہ ہوں کہ کوئی بھی انسان غرور کیسے کر سکتا ہے جب اﷲ تعالیٰ کے حبیب پاک جناب محمد مصطفیٰ ﷺ نے اﷲ تعالیٰ کے محبوب ہوکر مقام محمود ملنے کے باوجود، تمام پیغمبروں کا سردار کہنے کے باوجود، رحمت اللعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم بنا دینے کے باوجود، حوض کوثر کا تحفہ ملنے کے باوجود، فتح مکہ و لاتعداد جانثار و عاشق ہونے کے باوجود بھی کبھی ذرا سا بھی غرور نہ کیا بلکہ ہمیشہ انتہائی عاجزی اختیار کی۔ سُبْحَانَ اللَّهِ

مثال کے طور پر ہم کسی کو عزت یا احسان کریں، اور اگر وہ کم ظرف ہو تو بدلے میں ہماری ناحق تذلیل کرے گا، احسان فراموشی کرے تو ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے؟؟
کیا انسان بھی یہی کچھ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کرکے کم ظرفی نہیں دکھاتا؟
اﷲ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اس کی عظمت کے دل سے قائل ہوں اس کا احسان مانیں ، اس کے مان کو اور اہمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں اس کو مایوس نہ کریں اس کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرکے، شیطان کا دعویٰ غلط ثابت کریں، تو ظاہر ہے وہ خوش ہوگا۔

یا اﷲ پاک! تمام مسلمانوں کو خاص طور پر مجھے اور میرے والدین کو، مجھے اور میرے بچوں کو دنیا و آخرت میں نورِ ہدائت اور آسانیاں عطا فرما، ہماری زندگی کو کارآمد اور با مقصد بنا کر اپنی رضائے کاملہ و دیدار پاک عطا فرما۔اللھم یا رب اللعالمین۔
والسلام۔ ۔مطلوبِ دعا۔۔آسیہ روبی

[quran surah=”6″ ayat=”165″]

[quran surah=”82″ ayat=”6″]
[quran surah=”82″ ayat=”7″]
[quran surah=”82″ ayat=”8″]

[quran surah=”23″ ayat=”14″]

[quran surah=”35″ ayat=”11″]

[quran surah=”22″ ayat=”5″]

[quran surah=”40″ ayat=”67″]

[quran surah=”15″ ayat=”26″]

[quran surah=”23″ ayat=”12″]

[quran surah=”20″ ayat=”55″]

[quran surah=”37″ ayat=”11″]

[quran surah=”36″ ayat=”76″]

[quran surah=”36″ ayat=”77″]

[quran surah=”40″ ayat=”67″]

[quran surah=”55″ ayat=”14″]

[quran surah=”6″ ayat=”98″]

[quran surah=”6″ ayat=”2″]

[quran surah=”16″ ayat=”4″]

[quran surah=”25″ ayat=”54″]

[quran surah=”31″ ayat=”28″]

[quran surah=”32″ ayat=”9″]

[quran surah=”39″ ayat=”6″]

[quran surah=”86″ ayat=”5″]

[quran surah=”86″ ayat=”6″]

[quran surah=”86″ ayat=”7″]

[quran surah=”7″ ayat=”11″]

[quran surah=”22″ ayat=”73″]  

1 Comment
  1. Awais Ahmad says

    ما شاءاللہ انسان کی حقیقت کے موضوع کو بہت اچھے پیرائے میں بیان کیاگیا سب سے خاص یہ کہ پوری تحریر کوقرآن مجید کے حوالہ جات سے مربوط رکھ کے لکھا گیا۔۔۔
    حقیقی عالم اور سائنسدان اللّٰہ کریم ہی ھے ۔ ماسوا عجز کے انسان کو کچھ زیب نہیں دیتا وگرنہ وہ گمراہی کے راستے کا راہی ھےاور مغالطے کی دنیا کا مسافر۔۔۔

    صحیح ہے کہ انسان کی اپنی تخلیق ھی اسکے پاس اللّٰہ کے لاجواب ھونے کی قوی اور اٹل دلیل ھے۔
    جزاک اللّہ ھو تعالیٰ ۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: