جنگلات کی تیزی سے کٹائی نے انسانی اور جنگلی حیات کو داو پر لگا دیا ہے

19

عالمی سطح پرجنگلات کی تیزی سے ہونے والی کٹائی نے
انسانی اور جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کو دائو پر لگا دیا ہے۔

کامسیٹس کے مرکز برائے آب و ہوا اور پائیداری نے جنگلات کے تحفظ اور دیگرحکومتی اقدامات کو بہتر اور قابل عمل بنانے کے لیے تجاویز کے پس منظر میں بین الاقوامی ویب نار کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں،جو 18فروری کو منعقد ہوگا۔

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق کامسیٹس کے مرکز برائے آب و ہوا اور پائیداری (سی سی سی ایس) نے گھانا کی سائنس برائے صنعتی اور ریسرچ کونسل(CSIR)،گھانا کے جنگلات ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (FORIG)اور سب صحارا افریقہ کےفارسٹری ریسرچ نیٹ ورک (FORNESSA) کے مشترکہ تعاون سے 18 فروری 2021 ،بروز جمعرات،شام3بجے ایک ویب نار کا اہتمام کیا ہے۔یہ ویب نار سیریز کامسیٹس(سی سی سی ایس)مرکزکے تحقیقی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس ویب نار کا عنوان’’جنگلات کے پائیدار انتظام اور عالمی سطح پر جنگلات کی کٹائی کاچیلنج‘‘ تجویز کیا گیا ہے،جو لائف آن لینڈ۔ایس ڈی جی۔ 15 کے تناظر میں رکھا گیا ہے۔اس موضوع کے تحت شرکاء بحث ومباحثہ میں شریک ہوں گے تاکہ جنگلات کے پائیدار انتظام اور گلوبل ساؤتھ میں جنگلات کی کٹائی کے درپیش چیلنجوں سے متعلق امور اور اس وسیع خطے میں جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے حکومتی سطح کے اقدامات اور کوششوں کو تیزتر بنانے کی تجاویز کا احاطہ کیا جاسکے۔ یاد رہے گلوبل سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ رپورٹ برائے،2019 کے مطابق دنیا بھر میں جنگلات ایک خطرناک شرح سے غائب ہو رہے ہیں، بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود جنگلات کےکٹاؤ کو روکنےیا معتدل کرنے کے رجحان میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ عالمی پائیدار ترقی کی رپورٹ (جی ایس ڈی آر ، 2019) میں جن منطقہ حارہ علاقوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی ہے اُن میں جنوبی اور وسطی امریکا ، سب صحارا افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاءکو شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 1990کے بعدسے اِن علاقوں سے 130 ملین ہیکٹرسے زائد رقبے پر محیط جنگلات ضائع ہوچکے ہیں۔دیگر تفصیلات کے مطابق ،ان مخصوص خطوں میں جنگلات کی کٹائی کی اصل وجوہات میں زرعی توسیع بھی شامل ہے ،جو عالمی سطح پر جنگلات کی کٹائی کا تقریبًا 80 فی صد ہے۔علاوہ ازیںلکڑی اور معدنیات جیسی ضروریات ، نئی بستیوں کی آباد کاری، جنگل کی آگ بھی اِن وجوہات میںشامل ہیں،جو قدرتی وسائل کو غیر مستحکم بنانے میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں۔لیکن اس کےباوجود جنگلات آج بھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر اثر انداز ہو کر ہوا میں موجود کاربن کی موجودگی اور ذخیرہ ہونے جیسے خطرناک رجحان کو کم کرنے ، منفرد نوع کی نسلی اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے ساتھ ساتھ زندگی بچانے کے لیے دیگر متعدداقدامات اورضروری خدمات مہیا کرنے میں اہم کردارادا کررہے ہیں، جنگلوں سےآج بھی ایک ارب سے زائدافراد کا ذریعہ معاش منسلک ہے اس ویب نار میںڈائریکٹر ایف او آر جی/ سی ایس آئی آر، پروفیسر ڈینیئل اوفوری کلیدی خطبہ پیش کریں گے،جب کہ ناظم کی داریاں ایف او آر جی / سی ایس آئ آر کے ڈاکٹر ارنسٹ سرانجام دیں گے۔آپ عالمی پائیدار ترقیاتی رپورٹ- 2019 کے بارے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مشاورتی گروپ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔نیٹ ورک سب صحارا افریقہ کے لیے فارسٹری ریسرچ نیٹ ورک ’’فارنیسا‘‘ (FORNESSA) سے چار ماہرین ویب نار سے خطاب کریں گے۔اِن کا تعلق نائیجیریا کی آبادن یونیورسٹی،کیمرون کی یونیورسٹی بیمنڈا،مالوی کی یونیورسٹی آف زراعت اور قدرتی وسائل اور گھانا کے جنگلاتی کمیشن سے ہے۔جب کہ کامسیٹس کے سی سی سی ایس مرکز کے چار ماہرین بھی ویب نار سے خطاب کریں گے،اِن کا تعلق سینٹرو انٹرنیشنل ڈی فسیکا،بوگوٹا، کولمبیا،ای وی۔ کے ٹو۔سی این آر ایسوسی ایشن، پاکستان کی وزارت برائے سیاحت و ماحولیات،نیپال اور اردن کی رائل سائنسی سوسائٹی سے ہوگا۔ویب نار میں شمولیت درج ذیل لنک سے بذریعہ زوم میٹنگ ممکن ہو گی۔ جس کے لیے میٹنگ آئی ڈی ، 912 7391 0239 ہوگی جب کہ پاس ورڈ کوڈ353637 ہوگا۔
https://zoom.us/j/91273910239?pwd=QnNEUlB0alZSbTk4NHdLdER6T1U1UT09

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: