افغان فورسز اور طالبان میں لڑائی، ہلمند سے عوام نکل مکانی پر مجبور

55

حکام کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جنوبی افغانستان میں شدید لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امن عمل پر مذاکرات کے باوجود افغانستان میں تشدد جاری ہے۔
صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں اتوار کی شب سے طالبان نے سلسلہ وار حملے شروع کیے ہیں۔ افغان فورسز کے دفاع میں امریکہ نے بھی جوابی فضائی حملے کیے۔

ہلمند میں پناہ گزینوں کے محکمے کے ڈائریکٹر سید محمد رحیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پانچ ہزار خاندانوں سے زائد یا 30 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔‘
’کچھ لوگ اب بھی لشکرگاہ کی سڑکوں پر رہ رہے ہیں، ہمارے پاس ان کے لیے خیمے بھی نہیں۔‘
لڑائی کی وجہ سے مقامی افراد موٹرسائیکلوں، ٹیکسیوں اور بسوں کے ذریعے نکل رہے ہیں۔
مقامی شہری حکمت اللہ نے کہا ہے کہ وہ مجبوراً اپنا گھر چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے پڑوس کے ایک گھر پر مارٹر گولا گرا جس کی وجہ سے دو خواتین ہلاک ہوئی ہیں۔
عطااللہ افغان جو کہ ایک کسان ہیں، نے بتایا کہ لڑائی اتنی شدت سے جاری تھی کہ ان کے پاس گھر سے کپڑے اٹھانے کے لیے بھی وقت نہیں تھا۔ میں نے صرف اپنے خاندان کو ساتھ لیا اور وہاں سے نکل گیا۔
افغان حکام کے مطابق بدھ کے روز چار اضلاع میں لڑائی جاری تھی۔ افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان کے حملوں کا جواب دیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن نے طالبان جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز پر زور دیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور علاقہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو راستہ دیا جائے۔
ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر ژواک کے مطابق بدھ کی صبح دو ہیلی کاپٹروں کے ٹکرانے سے ناوہ ضلعے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں

ہلمند جو کہ طالبان کا گڑھ ہے، افغانستان کی 19سالہ جنگ میں بین الاقوامی افواج نے بڑی لڑائیاں لڑی ہیں۔
فروری میں ہونے والے امن معاہدے میں کہا گیا تھا کہ جنگجو شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے اور تشدد میں کمی لائیں گے۔
معاہدے کے تحت امریکہ اگلے سال مئی تک اپنی افواج افغانستان سے نکال لے گا۔
گذشتہ ماہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے لیکن یہ تعطل کا شکار نظر آتے ہیں کیونکہ دونوں فریقین مذاکرات کے لیے ایک بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: