ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر تعلیم کی تباہ کاری ،طلباء تنظیمیں مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے.

اگر تعلیم کے لیے فنڈ نہیں تو پھر ایسے میزائلوں کے تجربات کا کیا فائدہ جن کوچلانے والا کوئی نہ ہو ۔صدیق الرحمن پراچہ

پشاور(نمائندہ رحمت اللہ شباب) گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی پروگرام کے دعوے بھی ہوائی ثابت ہو رہے ہیں ۔وفاقی حکومت کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کٹوتی ،تعلیمی گرانٹ کی عدم فراہمی اور مالی بحران نے پاکستان کے مستقبل کو چندے مانگنے پر مجبور کر دیا ۔حکومتی سرد مہری کا انتہا ہے ۔کہ صوبائی دارالحکومت سمیت کئی اضلاع میں طلباء تنظیمیں مطالبات کے حوالے سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں ۔ان احتجاجوں کے باوجود بھی حکومتی خاموشی ان کی تعلیمی ایمرجنسی کی نہ صرف نفی کر رہی ہیں ۔بلکہ حکومتی پالیسی کو تعلیم دشمنی پالیسی کی جانب اشارہ کر رہی ہیں ۔اس حوالے سے جماعت اسلامی کی زیلی تنظیم جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمن پراچہ کا کہنا ہے ۔کے حکومتی تعلیمی ایمرجنسی نے تعلیم کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔حکومت تعلیمی ایمرجنسی کا ڈھونگ رچا کر تعلیم جیسے شعبہ کو بھی آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر گامزن کر دیا ہے ۔کفریہ طاقت مسلم نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سوال کے جواب پر صدیق الرحمن پراچہ کا کہنا تھا ۔کہ سرکار کے پاس انڈین اداکارہ کے گھروں کو خریدنے کے لئے 24 ملین روپے ،کتوں کی سیر و تفریح کے لئے اربوں روپے ،مشیروں اور وزیروں کی لمبی پروٹوکول اور آئے روز میزائلوں کی تجربات کیلئے فنڈ موجود ہے ۔ لیکن تعلیم کے لئے نہیں ۔اگر قوم کے نوجوان تعلیم یافتہ نہ ہو ۔تو پھر ان میزائلوں کی تجربات کا کیا فائدہ چلائے گا کون ۔یقینی طور پر حکومت کو تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو عملی جامہ پہنائیں ۔ملک میں تعلیمی نظام کو قانونی ،انتقامی اور مالی معاونت فراہم کرے ۔اور طلباء تنظیموں کے ساتھ مل کر آئندہ کا تعلیمی پالیسی بنانے ۔کیوں کہ نوجوان تھی اس قوم کا اصل سرمایہ ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: