ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﻮﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺁﺯﻣﻮﺩﮦ ﻧﺴﺨﮧ، حکیم عارف جلالپور

67

ﻟﻮﻧﮓ 10 ﮔﺮﺍﻡ، ﺟﺎﺋﻔﻞ 10 ﮔﺮﺍﻡ، ﺟﻠﻮﺗﺮﯼ 10 ﮔﺮﺍﻡ، ﺩﺍﺭﭼﯿﻨﯽ10 ﮔﺮﺍﻡ، ﮐﺎﮐﮍﺍﺳﻨﮕﮭﯽ 40 ﮔﺮﺍﻡ، ﮐﺸﺘﮧ ﺑﺎﺭﺍﺳﻨﮕﮭﺎ 10 ﮔﺮﺍﻡ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﯿﺲ ﻟﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺗﯽ ﺷﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮ
ﺑﮍﻭﮞ ﮐﻮ 500 ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺩﯾﮟ


ﻧﺰﻟﮧ، ﺯﮐﺎﻡ، ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ، ﻧﻤﻮﻧﯿﺎ، ﺍﺳﮩﺎﻝ ﮐﺜﺮﺕ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺳﺮﺩﯼ ﻟﮕﻨﺎ
ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﻧﻤﻮﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﺠﺮﺏ ﺍﻟﻤﺠﺮﺏ ﻧﺴﺨﮧ ﮬﮯ۔
المعالج حکیم عارف جلالپور پیر والہ ملتان معالج خصوصی بے اولادی بانجھ پن،ماہر امراض اعصاب قلب و جگر و امراض سپرم وسیمن

فلو کا موسم زوروں پر ہے اور اسی دوران ہم فلو کی ایک جان لیوا کمپلیکیشن نمونیا کی بات کرتے ہیں۔ نمونیا فلو کے بعد پیدا ہونے کے علاوہ بھی کئی بیکٹیریا کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ بیکٹیریا، فنجائی اور وائرس کی وجہ سے ہونے والا یہ مرض تشخیص میں اس لیے بھی پیچیدگی پیدا کرتا ہے کیا نکل اس کے جراثیم کئی اقسام کے ہوتے ہیں اور ہر کسی کا علاج بھی مختلف ہے۔ ویسے تو یہ ہر کسی کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے مگر ذیادہ تر افراد جو اس کا شکار ہوتے ہیں وہ ذیادہ تر چھوٹے بچے اور 65 سال سے زائد عمر کے بوڑھے ہوتے ہیں۔ تاہم وہ افراد جن کا نظام مدافعت ناقص ہو بھی اس مہلک مرض میں بآسانی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نمونیا کی علامات میں کیا شامل ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

جب بھی کوئی جراثیم پھیپھڑوں میں شدید انفلیمیشن کے باعث ائیر سیکس یا ایلوی اولائی میں فلوڈ یا پس بھر جائے تو اسے نمونیا کہتے ہیں۔ نمونیا ہلکی سی علالت سے لیکر مہلک مرض تک کسی بھی طرح نمودار ہو سکتا ہے۔ علامات میں شدید اور بلغم والی یا بلغم کے بغیر کھانسی اور سینے میں درد جو کھانسی اور سانس کے ساتھ شدت اختیار کرے، بخار، سانس میں دشواری اور تھکاوٹ شامل ہیں۔ بخار کی صورت میں دیگر علامات جیسا کہ کپکپاہٹ، سردی لگنا اور پسینہ آنا بھی ہو سکتے ہیں۔ نمونیا عام حالات اور ہسپتال دونوں جگہوں پر ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وینٹیلیٹر پر مریضوں میں لازمی طور پر نمونیا کی علامات کو مدنظر رکھنا چاہیئے اور اسے بچاو کے بھی مناسب اقدامات کرنے چاہییں۔

تشخیص کیلئے چھاتی کا ایکسرے،بلغم اور خون کے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ جسمانی معائنہ درکار ہوتے ہیں۔ تاہم ایکسرے سے نمونیا کے جراثیم کا پتہ تو نہیں چلتا مگر فلوڈ کی مقدار سے مرض کی شدت کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔ خون اور بلغم کے ٹیسٹ سے جراثیم کا اندازہ ہو جاتا ہے جس کے بعد نمونیا کا علاج اچھے سے کیا جا سکتا ہے۔ علاج میں اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل دونوں جراثیم اور قسم کے لحاظ سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بعض اوقات شدید انفیکشن کی صورت میں کافی ساری ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ بخار،درد اور کھانسی کو روکنے کیلئے بھی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ اگر انفیکشن پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ جسم میں بھی پھیل جائے یا سانس میں دشواری اور دیگر زندگی کے بقا کیلئے ضروری افعال بھی متاثر ہونے لگیں تو ہسپتال میں نگہداشت لازمی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ 2 سال سے کم اور 65 سال سے ذیادہ کے افراد بھی ہسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں۔

گھر میں علاج کی صورت میں مکمل بیڈ ریسٹ، ادویات کا باقاعدہ استعمال، پانی اور فلوڈ کا بھرپور استعمال اور ماسک پہننے کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔ علامات میں کشیدگی کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رابطہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ فلو سے بچنے کیلئے فلو ویکسین کا باقاعدہ استعمال نمونیا جیسی مہلک بیماریوں سے بہترین طریقہ نجات ہے۔ نمونیا سے بچاو کیلئے ویکسین لگوانے کیلئے ابھی شفا فار یو کے پلیٹ سے رابطہ کریں!

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: