ناممکن نہیں کچھ بھی، تحریر اسماء طارق

ایف ایس سی کا زمانہ تھا… انتہائی دباؤ کی فضا… نمبروں کا پریشر، ڈاکٹر جو بننا تھا تب پتہ ہی نہیں تھا کہ زندگی میں میڈیکل اور انجینئر کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے… انٹری ٹیسٹ دیا……..ناکام رہی… وہ ناکافی اتنی بری تھی کہ … تب کوئی بھی دیکھتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے کہہ رہا ہو یہ تو ہے ہی فیل… کچھ نہیں کر سکتی زندگی میں… ڈپریشن کےلیے یہ کافی تھا….. ہر کسی سے الجھنا اب معمول تھا… اماں ابا تو دشمن لگتے تھے کہ یہی ہیں جن کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے…. پھر ان کا دوبارہ رپیٹ کرنے پر اصرار… تب لگتا تھا زندگی میں کچھ نہیں اب ..پھر بابا کی ڈیتھ، گویا کہ سب ختم ہو چکا تھا….. حالات واقعات سب بدل گئے تھے…بڑی بہن ہونے کا الگ پریشر…. توقعات کے بوجھ…..تنہائی ہم سفر تھی…. مگر اندر ایک تلاش تھی جو کبھی کتابوں تو کبھی انٹرنیٹ پر آوارہ گردی کر رہی تھی. کمانے کی خواہش بھی تھی….وقت کے ساتھ یہ خواہش اب مزید اور بھی ستانے لگی کچھ ہاتھ میں ہونا چاہیے… موبائل فون کی ایک نئی دنیا میری منتظر تھی …. نیٹ لگا نہیں تھا گھر میں تو اب میرے پاکٹ منی کے سارے پیسے نیٹ پیکجز میں جانے لگے… دوستوں کے ساتھ کیفے جانا ترک کر دیا… اندر کی پیاس باہر سے زیادہ تھی ….میں نے دنیا جہاں کے ڈھیروں لیکچر سن ڈالے اور تب ان میں سے اہم پوائنٹ میں لکھا کرتی تھی. ابھی بھی وہ نوٹس میرے پاس ہیں .. اس سے یہ فائدہ ہوا کہ میرا سوچنے کا نظریہ بدلا …. اب میں پریشان ہونے پر رونے اور خود کو کمرے میں بند کرنے کی بجائے، کوئی راستہ ڈھونڈنے لگی… کچھ نیا سیکھنے لگی.. .. خود کو ایسی چیزوں میں مصروف رکھنے لگی جس سے کوئی مثبت فائدہ بھی ملے…… اس سے میری معلومات میں اضافہ ہوا.. مجھے پتہ چلا کہ مجھے تو دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا… نئ نئ ٹرم اور ٹرمینالوجی سے متعارف ہوئی . کہاں گھر بیٹھے چابی مل گئ اور پھر کہاں سے کہاں کا سفر طے کیا….اب گریجویشن بھی مکمل ہونے والی .. ٹکریں مار کر دوسروں کے ساتھ مل کر کچھ کتابیں لکھیں اور کمایا اور پھر اسی سے اپنی ذاتی کتاب آس بھی لکھ لی، کچھ اور چھوٹی موٹی کامیابیاں بھی حاصل کر لیں جو کبھی خواب تھیں.. کچھ نیشنل نمائندگیوں کے ساتھ ایک انٹرنیشنل ایوارڈ بھی حاصل کیا. …یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو نیت کی کہ خوب دھکے کھانے ہیں اور سب سیکھنا ہے. لوگوں سے ملنا ہے، سب کو اپنے بارے میں بتانا ہے جس کا یہ فائدہ ہوا کہ یونیورسٹی سے نکلنے سے پہلے ہی کام پیچھے بھاگنے لگا، کمائی بھی ہونے لگی، دوسروں کو سکھانا بھی شروع کر دیا. پچھلے سال کوڈ میں یونیورسٹی دوستوں کے ساتھ مل انٹرنیشنل پلیٹ فارم کی مدد سے پاکستان بھر سے پانچ سو سے زائد سکول اور کالج کے بچوں لیڈر شپ کی تربیت دی..ہاں ابھی منزل بہت دور ہے شاید کہ سفر شروع ہی نہیں ہوا . مگر یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمیں بس مختلف نظریہ سے سوچنے کی ضرورت ہے اور اس کےلیے کبھی ایک لائن اور کبھی چند جملے ہی بڑے کاری گر ثابت ہوتے ہیں. اور ہمیں بھی کوشش کرکے یہ جملے بانٹنے ہیں. دوسروں کی ہمت بڑھانی ہے. گرانے والے تو اکثر ہی مل جاتے ہیں مگر ہمیں اٹھانے والوں میں سے بننا ہے.

کچھ آس سے اقتباس : اپنی کتاب آس ہاتھ میں لیے بیٹھے میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک وقت تھا جب مجھے پڑھنے کا کس قدر شوق تھا، اس کی وجہ یہ بھی تھی شاید کہ بولنا نہیں آتا تھا… تو لائنیں لکھنا شروع کر دیں. بس پھر لکھنا میرا catharsis (کتھارسس) بن گیا، باقاعدگی سے ڈائری لکھنے شروع کردی. اب ڈائری میرے سکھ دکھ کی ساتھی تھی… میرے پاس کئی ڈائریاں جمع ہو چکی تھیں..
کبھی میں مذاق میں کہا کرتی تھی کہ جب میں مر جاؤں گی تو ان کو میرے ساتھ دفنا دیجئے گا…. کبھی خواہش ہوتی کہ کاش کوئی مجھے بھی پڑھے جیسے میں پڑھتی ہوں اور کہے یہ تو اس نے میری سوچ کو میرے احساسات کو لکھا ہے… شاید اوپر والے نے سن لی تھی اور آس کی تکمیل ہوئی… وہ ایک لمحے کا فیصلہ تھا کہ میں نے اپنی پہلی کمائی سے اپنی کتاب پبلش کروانی ہے ..
اسی جلدی کی وجہ سے کچھ خامیاں رہ گئیں مگر شاید وہاں ڈر تھا کہ کہیں سچ میں یہ سب تحریریں قبر کا حصہ نہ بن جائیں… خیر آس کی بات کرتے ہیں تو اگر کہا جائے کہ آس صرف ایک لفظ یا محض ایک عنوان نہیں ہے، بلکہ یہ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے انسان کی تلاش ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: