مفتی پوپلزئی نے مفتی عزیز کو سخت سزا دینے اور علامہ ہشام الہی ظہیر نے سنگسار کرنے کا مطالبہ کردیا

علامہ ہشام الہی ظہیر نے آج اپنے خطبے میں مفتی عزیز الرحمان کو سخت سزا دینے اور سنگسار کرنے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں ایسا کرنے والے کو سنگسار کرنے، پہاڑ سے گرانے یا زندہ جلا دینے کی سزا دی جاتی ہے۔ جبکہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے مفتی عزیز الرحمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا

”اگر مسجد کے احاطے میں ڈانس کرنا، ڈھول کی تھاپ کے اوپر رقص کرنا، اور مسجد کے احاطوں کے اندر ناچ اور گانے کی محفلیں بپا کرنا، وہاں پہ شوٹنگ کرنا، توہین شعائر اللہ، یا توہین مسجد ہے، تو مسجد کے اندر بیٹھا ہوا چاہے کوئی بدکار ملا ہو، ہاتھ میں قرآن اور حدیث کی کتاب لے کر، کسی بدفعلی کا مرتکب ہوا ہو، تو یہ صرف بدفعلی کا جرم نہیں ہے، بلکہ توہین مساجد بھی ہے، توہین شعائر اللہ بھی ہے۔“

”ہم یہ بات علی الاعلان کہتے ہیں کہ اس طرح کے بدکار ملاؤں، ٹیچروں، استادوں، کسی بھی شعبے کے اندر ہوں، اس فعل شنیع کو برپا کرنے والے، اس فعل شنیع کا ارتکاب کرنے والے، ان کو شرعی سزا دی جائے۔ آج ہم کہتے ہیں کہ ان کو سنگسار کر دیا جائے، سٹوننگ ٹل ڈیتھ، اس وقت تک پتھر مارے جائیں جب تک مر نہیں جاتے۔“

”حضرت علی نے ایسا عمل کرنے والوں کو پہاڑوں پر لے جا کر گرا دیا تھا۔ حضرت علی نے کیا کام کیا تھا؟ ان کے بارے میں تین سزائیں صحیح سندوں سے ملتی ہیں۔ ایک تو پتھروں سے سنگسار کرنا، دوسرا پہاڑوں سے گرا دینا، تیسرا ان کو زندہ جلا دینا۔ زندہ جلانے کی سزا بھی شریعت میں ثابت ہے۔ یہ اتنا قبیح جرم ہے۔ ہم آج کس معاشرے میں زندہ ہیں۔ ہم اپنی بیٹیوں بیویوں بہنوں کو پردہ کروا کر کسی حد تک ان جنسی درندوں سے تو بچا لیں، بچوں کا کیا کریں؟ کیا بچے بھی نقاب لے کر نکلیں؟“

مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے ٹویٹر پر اپنا موقف یوں بیان کیا

”عزیر الرحمن نامی درندے اور ذہنی مفلوج بندے کے فعل سے امن کے گہواروں مدارس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ گیا ہے۔ انتظامیہ سے سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔ مدارس کے انتظامی امور میں اصلاحات بھی وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انتظامیہ آگے بڑھے، ہم ان شاء اللہ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ۔“

”اس سے پہلے زنا کے مرتکب افراد کو سزائیں مولویوں سے پوچھ کر نہیں دی گئی۔ عزیز الرحمن لعنتی سے مذہبی طبقہ برات کا اعلان کرچکا ہے، ان کی اسناد، عہدے منسوخ ہوچکے ہیں۔ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔“

اب باری ہے انظامیہ کی۔ کارروائی کو فی الفور آگے بڑھائے اور سخت ترین سزا دیں

مفتی عبدالحفیظ جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام ضلع لاہور نے کہا کہ ضلعی جماعت نے صوبائی بالائی جماعت کی ہدایت پر ”موصوف عزیز الرحمان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی ہے اور جماعت کے تمام کارکنان کو ہدایت کر دی ہے کہ آئندہ سے جماعت کی کسی بھی سطح کے کسی بھی پروگرام میں ان کو مدعو نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کسی بھی سطح پر برائی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ ایسے قبیح قسم کے افعال کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بلکہ اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر تمام تحقیقی اداروں سے اور تفتیشی اداروں سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ اس مبینہ ویڈیو کردار میں جتنے بھی ملوث لوگ ہیں ان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ان کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے“ ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: