نیوزی لینڈ: جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب

32

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی ایک مرتبہ پھر عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دو تہائی ووٹوں کے نتائج کی بنیاد پر جیسنڈا آرڈرن کی جماعت نے 120 سیٹوں پر مشتمل پارلیمان میں سے 64 سیٹیں جیت لی ہیں۔
وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 50 برسوں میں ان کی جماعت لیبر پارٹی کو اس وقت سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔

نیوزی لینڈ میں 1996 میں متناسب نمائندگی کا نظام متعارف کروانے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سیاسی رہنما کو مکمل اکثریت حاصل ہوئی ہے۔
غیر حتمی نتائج قبول کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف جوڈت کولنز نے انتخابی شکست تسلیم کرتے ہوئے جیسنڈرا آرڈن کو شاندار کامیابی پر مبارک باد کا فون کیا۔ جوڈت کولنز کی نیشنل پارٹی کو 20 برسوں میں سب سے بری شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جیسنڈا آرڈرن کی حکومت نے جون کے مہینے میں ہی کورونا وائرس پر مکمل فتح حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ 50 لاکھ کی آبادی کے ملک نیوزی لینڈ میں صرف 25 افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔
عام انتخابات میں جیسنڈا آرڈرن کی جماعت کی کامیابی کی ایک اہم وجہ کورونا وائرس کو کامیابی سے شکست دینا بھی ہے۔

کورونا وائرس کے بحران سے قبل مارچ 2019 میں ہونے والے کرائسٹ چرچ سانحے کے بعد بھی جیسنڈا آرڈرن کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا تھا۔ 29 سالہ آسٹریلوی برینٹن ٹارنٹ نے کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں حملہ کر کے 51 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
حملے کے چھ روز بعد ہی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے تمام اقسام کے نیم خود کار ہتھیاروں اور خود کار رائفلز پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: