ماسک کی وجہ سے چشمے پر آنے والی دھند کا حل نکل آیا،جانیے

  1. Make sure your mask fits snugly. …
  2. Secure the mask around your nose. …
  3. Think your mask is too big? …
  4. Stop your glasses from slipping down your nose. …
  5. Breathe downwards into the mask. …
  6. Clean your lenses. …
  7. Adjust your glasses. …
  8. Switch to contact lenses.

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماسک اب ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور ہم جہاں بھی جائیں ماسک کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔عوامی مقامات ہوں یا اسکولز اور دفاتر غرض یہ کہ ہر جگہ اب ماسک کا استعمال لازمی ہے جبکہ کچھ ممالک میں تو ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے تاکہ لوگوں کو کورونا وائرس سے بچایا جاسکے اور اس وبا پر قابو پایا جائے۔تاہم ہر وقت ماسک پہنے رہنے سے لوگوں کو کچھ مسائل بھی سامنے آتے ہیں جن میں ایک بڑے مسئلے کا سامنا ان افراد کو ہوتا ہے جن کی نظر کمزور ہے اور وہ چشمہ لگاتے ہیں۔

دراصل جب ماسک لگایا جاتا ہے تو سانس لینے کی وجہ سے ناک سے نکلنے والے بخارات چشمے پر دھند کا باعث بنتے ہیں۔

چشمے پر دھند کی وجہ سے لوگوں کو دیکھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس دھند سے عارضی چھٹکارے کے لیے بار بار چشمہ بھی صاف کیا جاتا ہے۔لیکن ماسک کی وجہ سے چشموں پر دھند کا مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔

تاہم اب ایک امریکی ڈاکٹر نے اس اہم مسئلے کا سامنا کرنے والے افراد کو ایک ترکیب بتاتے ہوئے اس دھند کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔جس پر عمل کرکے اب ماسک پہنا جائے تو چشمے پر دھند نہیں آئے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امریکی ڈاکٹر ڈینئل ایم ہیفر مین نے ایک پوسٹ میں اکثر لوگوں کو ماسک کی وجہ سے درپیش اس مسئلے کا ایک سادہ اور آسان حل بتایا ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر آپ کو اپنی ناک پر ماسک رکھنے یا اس کی وجہ سے چشمے پر دھند کے مسائل کا سامنا ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ ماسک لگانے کے بعد ناک پر ایک سنی پلاسٹ لگائیں

ڈاکٹر ڈینئل نے کہا کہ ماسک پر اس جگہ سنی پلاسٹ سے حیران کن کام ہوگا اور چشمے پر دھند نہیں آئے گی۔انہوں نے ٹوئٹر صارفین کو اسے شیئر کرنے کا بھی کہا تھا اور کہا تھا کہ اس سے آپ زندگیاں بچا سکتے ہیں۔

بعد ازاں ڈاکٹر ڈینئل کی ٹوئٹ کو کافی زیادہ پسند کیا گیا یہاں تک کہ اسے 67 ہزار سے زائد صارفین نے ری ٹوئٹ بھی کیا۔ٹوئٹر پر اکثر صارفین نے ڈاکٹر ڈینئل کا شکریہ بھی ادا کیا کہ وہ کئی ماہ سے اس مسئلے کا شکار تھے اور اب ان کے لیے آسانی پیدا ہوگئی ہے۔

کیا واقعی فیس ماسک کا استعمال کورونا وائرس سے سو فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے؟

فیس ماسک کا استعمال ہوا میں موجود نئے کورونا وائرس کے ذرات سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے مگر اس خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ٹوکیو یونیورسٹی کی اس تحقیق کے لیے ایک محفوظ چیمبر تعمیر کیا گیا تھا جہاں پتلوں کے چہروں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھا گیا۔ایک سر پر فیس ماسک پہنایا گیا جو انسانوں کی طرح سانس لینے کی نقل کررہا تھا جبکہ دوسرا سر کھانسی کے ذریعے کورونا وائرس کے حقیقی ذرات خارج کررہا تھا۔

محققین نے دریافت کیا کہ کاٹن سے بنا فیس ماسک پہننے سے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ بغیر ماسک کے مقابلے میں 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔اس کے مقابلے میں این 95 ماسک 90 فیصد تک وائرل ذرات کو بلاک کردیتا ہے مگر پھر بھی کچھ ذرات آرپار ہوسکتے ہیں۔محققین نے جب کھانسی والے چہرے پر کاٹن اور سرجیکل ماسکس کو پہنایا تو وائرس 50 فیصد سے زائد ذرات بلاک ہوگئے۔محققین کا کہنا تھا کہ وائرس پھیلانے والے اور اسے موصول کرنے والے ماسک پہنتے ہیں تو یہ بیماری کے پھیلاؤ کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے مسلسل اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس ہوا کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے اور امریکا کے یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) نے بھی حال ہی میں اپنی گائیڈلائنز پر نظرثانی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ وائرس ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتا ہے۔رواں ماہ جاپانی ماہرین کی ایک الگ تحقیق میں سپر کمپیوٹر کو استعمال کرکے ثابت ککیا گیا تھا کہ نمی وائرس کے ذرات کے ہوا کے ذریعے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔رواں ماہ کے شروع میں کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا چاردیواری کے اندر چہرے کو ماسک سے ڈھانپنے سے ہر ہفتے نئے کیسز کی شرح میں 46 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر چاردیواری کے اندر فیس ماسک کے استعمال کو جولائی میں لازمی کردیا جاتا تو اگست کے وسط تک نئے کیسز کی شرح میں 40 فیصد تک کمی لائی جاسکتی تھی۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک کا استعمال لازمی قرار دیئے جانے کے بعد ابتدائی چند ہفتوں کے دوران ہفتہ وار کیسز کی شرح میں اوسطاً 25 سے 31 فیصد تک کمی آئی۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے اپنے طریقہ کار میں فیس ماسک کے حفاظتی اثرات کا تجزیہ کیا، جس میں دریافت کیا گیا کہ اس احتیاطی تدبیر سے کووڈ 19 کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ان کے بقول یہ تخمینہ لیبارٹری اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس سے کم ہے مگر پھر بھی اس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کافی حد تک سست کیا جاسکتا ہے۔

اکتوبر میں ہی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال لوگوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زہریلے اثرات کا خطرہ نہیں بڑھاتا چاہے وہ پھیپھڑوں کے امراض کے شکار ہی کیوں نہ ہوں۔

اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے فیس ماسک پہننے والے افراد کے خون میں آکسیجن یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا جبکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جو پھیپھڑوں کی بیماری سی او پی ڈی کے شکار تھے۔سی او پی ڈی کے شکار افراد کے لیے سانس لینا مشکل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دم گھٹتا ہے اور وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔

طبی جریدے اینالز آف دی امریکن تھوراسسز سوسائٹی میں شائع اس تحقیق میں فیس ماسک کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ ایسے افراد جن کے پھیپھڑے بیماری سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ستمبر میں طبی ماہرین نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ فیس ماسک کورونا وائرس کے ذرات کو فلٹر کرکے ان کی شرح اتنی کم کردیتے ہیں جو ماسک پہننے والا جسم کے اندر کھینچ لے تو اس حد تک ہی بیمار ہوتے ہیں جس میں علامات سامنے نہیں آتیں۔یعنی بالکل ویکسینیشن کی طرح کا کام فیس ماسک مدافعتی ردعمل کے حوالے سے کرتا ہے جو وائرس کی معمولی مقدار ماسک پہننے والے کے اندر پہنچا دیتا ہے جو کسی سنگین بیماری کا باعث نہیں ہوتا۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو بڑے پیمانے پر فیس ماسک وہ بھی کسی بھی قسم کے ماسک کا استعمال بڑھے گا اور اس سے کووڈ 19 کے بغیر علامات والے کیسز کی شرح بڑھے گی۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین ڈاکٹر مونیکا گاندھی اور ڈاکٹر جارج رتھرفورڈ نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ فیس ماسک اس طرح کام کرتے ہیں جیسا نظریہ انہوں نے پیش کیا ہے۔

محققین کے مطابق اگر چہرے کو ڈھانپنے سے کسی فرد میں متاثر کرنے والے وائرس کی کم مقدار جائے تو ان میں معمولی یا بغیر علامات کے بیماری کی تشخیص ہوتی ہے جس سے کسی حد تک امیونٹی یا مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔مگر دیگر طبی ماہرین نے انتباہ کیا کہ فیس ماسک کو محفوظ اور موثر ویکسین کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

ایموری یونیورسٹی کی ویکسین ماہر جیوٹی رنگارجن نے کہا کہ زندہ وائرس کی معمولی مقدار کو جسم میں اتار لینا کسی ویکسین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ ہر فرد کا مدافعتی ردعمل مختلف ہوسکتا ہے جبکہ جینیاتی اور دیگر وجوہات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ تو یہ ممکن ہے کہ بہت کم مقدار میں بھی یہ وائرس کچھ افراد کو بہت زیادہ بیمار کرسکتا ہے۔

مگر کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال بیماری کے خطرے کو کم کرتا ہے جبکہ اس وقت جب دنیا ایک ویکسین کی منتظر ہے، اس وقت بغیر علامات والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اس وبا کو کم جان لیوا بنانے کے ساتھ آبادی کی سطح پر مدافعت کو بھی بڑھا سکتا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: