چترال ائیر پورٹ روڈ پر تیزی سے معیاری کام جاری، ایگزیکٹیو انجنئیر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو


چترال(گل حماد فاروقی) چترال ائیر پورٹ روڈ پر کام تیزی سے جاری ہے جو بہت جلد یہ سڑک پحتہ ہوکر اس سے لوگ استفادہ کریں گے۔ اس سڑک پر تارکول کا نہایت معیاری کام جاری ہے۔ چیو پُل سے چترال ائیر پورٹ تک سڑک کی پحتگی کیلئے باقاعدہ طور پر اسفالٹ پلانٹ منگوایا گیا۔ انجنیر شیراز نے بتایا کہ کرونا وائیریس نے پوری دنیا میں زیر تعمیر ترقیاتی کام متاثر کئے تو چترال میں سڑکوں کا کا م بھی بری طرح متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پورے چترال میں اسفالٹ پلانٹ نہیں تھا اور کروڑوں روپے کی لاگت سے اس پلانٹ کا مالک معمولی کام کیلئے اسے لگانے کیلئے اکثر تیار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے ایگزیکٹیو انجنیر عثمان یوسف شنواری نے اس پلانٹ لانے کیلئے دن رات محنت کرکے اسے راضی کردیا اب یہ پلانٹ لگ چکا ہے اور جہاں کرش، حاکہ اور تارکول 150 سنٹی گریڈ درجہ حرارت تک اس پلانٹ میں گرم ہوکر مکس کیا جاتا ہے اور اسے لوڈر میں لے جاکر سڑک تعمیر کی جاتی ہے۔


محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے اکسیئن اور ایس ڈی او رات بارہ بجے تک اس کام کی نگرانی کررہے تھے۔ تاہم گزشتہ رات اچانک فیور مشین کا ایک موٹر حراب ہوا جسے مرمت کیلئے ترنول بھجوایا گیا تاہم فوری طور پر دوسرا فیور مشین منگوایا گیا اور اس کے ساتھ ہی رولر اور دیگر مشنری بھی کام پر لگائی گئی ہے جس کی بدولت کام زور و شور سے جاری ہے۔
اس کام کی نگرانی کیلئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سب ڈویژنل آفیسر عتیق فاروق ہر وقت موقع پر موجود رہتا ہے تاکہ کام کی معیار میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ آئے۔
ضلعی زکوۃ چئیرمین محمد قاسم جو حکمران پارٹی کے سینئر رہنماء بھی ہے انہوں نے بھی اس کام کا جائزہ لیا اور اس پر نہایت تسلی کا اظہار کیا ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ سسی شہرت کیلئے جھوٹا پروپیگنڈا کررہے ہیں عوام کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کے جھوٹے پروپیگنڈوں پر کان نہ دھرے اور تسلی رکھے کہ ہماری حکومت میں ہم غیر معیاری کام کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔


محمد نعیم بھی اسی سڑک سے روز گزرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی پحتگی سے عوام کو گرد و غبار اور کھڈوں سے نجات ملے گی اور وہ نہایت سکون کے ساتھ اس پر سفر کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک پر چترال کے ہوائی اڈہ کو نہایت اہم شحصیات گزرتے تھے اور یہ سڑک انتہائی حراب حالت میں تھی جو چترال کی خوبصورتی پر ایک بد نما داغ تھا اب سڑک پر نہایت معیاری کام ہورہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ ہم اسلام آباد کے کسی سڑک پر گزر رہے ہیں۔
خلیل احمد نے کہا کہ بعض لوگوں نے نہایت منفی پروپیگنڈہ کرکے عوام میں مایوسی پھیلانے کا کوشس کررہے تھے مگر ان کو نہایت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا اب کام جاری ہے چونکہ چترال میں تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے بڑی مشنری دستیاب نہیں ہیں اور ان مشینوں کو نیچے اضلاع سے لانا پڑتا ہے جس پر وقت ضرور لگتا ہے اب مشنری آگئی اور کام جاری ہے اور امید ہے کہ بہت جلد یہ سڑک پحتہ ہوکر عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔


حضرت علی کا تعلق دیر اپر سے ہے جو چترال میں کاروبار کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے اس سڑک کی حالت انتہائی حراب تھی اس پر گزرنے والے راہ گیروں کو گرد وغبار کے علاوہ کھڈوں پر گزرنا پڑتا تھا اب چونکہ اس پر کام شروع ہوا ہے تو اس سے عوام کو اس گرد وغبار سے نجات ملے گی اور چترال آنے والے سیاح بھی اس سے محظوظ ہوں گے۔
حاجی گلاب نے کہا کہ ابھی اس روڈ پر کام شرو ع ہوا ہے اور ہمیں امید پیدا ہوگئی کہ اب یہ سڑک پحتہ ہوجائے گا۔ یہ سڑک چترال کی خوبصورتی پر نہایت بد نما داغ تھا اب جب یہ تعمیر ہوگا تو اس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو فایدہ ہوگا بلکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو بھی بہت سفر کرنے میں آسانی ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: