بچوں سے زیادتی، اے ابن آدم بتلاؤ ذرا! تحریر:مغیزہ امتیا ز

107

یوں تو کہنے میں بہت ہی قابل قدر ہیں حوا کی بیٹیاں ۔ جو آجکل اپنی عزتوں کے محافظ و نگہبان،آدم کے بیٹوں سے اپنی عظمتوں کے پامال ہونے سے خوفزدہ ہیں ۔کیونکہ یہی محافظ وحشت و درندگی کا الم ناک منظر آئے روز پیش کر رہے ہیں ۔حتی کہ درندگی کا عالم یہ ہے کہ ان کو بالغ و نا بالغ کا فرق بھی نظر نہیں آ رہا ۔یہ وحشی اپنی درندگی سے خوبصورت ننھی منی کلیوں کو نوچ رہے ہیں ۔مانا کہ آج کل کے فحش لٹریچر اور مغربی تہذیب نے مسلم عورتوں پر برا اثر ڈالا ہے لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ہماری سنہری اقدار و روایات کیوں دم توڑ رہی ہیں؟

سالہ بچی کا ریپ ایک درد ناک منظر 7
ایک معصوم ننھی کلی کی ابن آدم سے التجا

میں پھول کی کلی نازوں سے پلی
کھلنے سے ہی پہلے روند دیا
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!
کیا قصور تھا میرا ان سب میں
میں سسک سسک کر کہتی ہوں
کیوں سنتا نہیں کوئی میری صدا
اے ابن آدم چھوڑ ذرا!
اے ابن آدم چھوڑ ذرا!
بابا کی راج دلاری ہوں
نہ مجھ کو یوں تو روند ذرا
اے ابن آدم چھوڑ ذرا!
اے ابن آدم چھوڑ ذرا!
بتلاتی ہوں میں بابا کو
کیوں چیخیں میری سن کر بھی
عالم سارا مدہوش ہوا
میری صدا ہے یہ کوئی ساز نہیں
میرے بابا کو کوئی بلاو ذرا !
میرے بابا کو کوئی بلاو ذرا

بچیوں کو ڈرانے دھمکانے کا رواج عام

ہوگی تیری بھی بیٹی یا بہن ؟
کیوں تجھ کو ذرا بھی خیال نہیں؟
میرے خون سے چور بدن پر بھی
کیوں اتنے ستم تم ڈھاتے ہو؟
کیوں ترس تمہیں آتا ہی نہیں؟
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!
تم کتنی کلیاں روندو گے؟
کتنے پھولوں کو مسلو گے؟
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!
اے ابن آدم بتلاؤ ذرا!

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: