کہتے ہیں کہ انسان کا کردار والدین کی تربیت کا عکس ھوتا ھے ۔ محمد افضال جٹ


ھر ماں باپ کی خواہش ھوتی ھے کہ میری اولاد ھماری نیک نامی کا باعث بنیں ۔۔جب کسی کی اولاد اچھے کام کرتی ہے تو معاشرہ بے اختیار کہتا ہے کہ فلاں کے بچے ھیں ۔۔ان کی ماں بہت اچھی تھی ۔ان کا باپ بہت اچھا تھا ۔۔اور اگر اولاد غلط کاریوں میں پڑ جائے تو خوامخواہ والدین میں نقص نکل آتے ہیں ۔لوگ کہتے ہیں کہ اس باپ بھی ایسا تھا ۔۔یا ماں میں یہ کوتاھی تھی ۔۔ایک تیسرا پہلو بھی ہے
ماں باپ بہت شریف اور اچھے کردار کے ھوتے ھیں ۔مگر اولاد نے وکھرا آتنک مچایا ھوتا ھے ۔۔اور لوگ کہتے ہیں کہ ماں باپ تو اچھے تھے یہ معلوم نہیں کس پر چلا گیا؟
اللہ پاک نے انسان اور جنات کو ثقلین بنایا ہے ۔۔غلط اور صحیح بنا دیا ۔۔ان راستوں کا انتخاب اختیاری کر دیا ۔۔شیطان کو اختیار دے دیا کہ بہکا سکتا ہے ۔۔انسان بہک جاتا ہے
یہاں پر دو طبقات ھیں ۔۔
ایک طبقہ جان بوجھ کر باقاعدہ پلاننگ کرکے غلط کام کرتا ہے ۔
رات کو جب اکیلا بیڈ چارپائی پر لیٹتا ھے تو دماغ میں اس غلط کام کی پلاننگ چلا رھا ھوتا ھے ۔۔خصوصی کاوش کر کے گناہ کرتا ہے ۔زنا فراڈ دھوکا ظلم کچھ بھی جو وہ کر سکتا ہے ۔۔
دوسرا طبقہ ایک لمحہ کے لئے بہکاوے میں آ جاتا ہے ۔بعض اوقات اسی بہکاوے میں غلط کام سرانجام دے بیٹھتا ہے ۔پھر جب رات کو لیٹتا ھے تو پشیمانی رھتی ھے اور ایک لمبے عرصے کے لئے غلط کام سے بچنے کے لیے عہد کرتا ہے ۔۔
بعض اوقات اسی بہکاوے میں کیا گیا غلط کام پبلک ھو جاتا ھے ۔۔
ایسے لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کا حکم ہے ۔۔یہاں بھی دو طبقات ھیں ۔۔
ایک طبقہ اس بیچارے کی غلطی کو مرچ مصالحہ لگا کر چسکے لیکر لوگوں سے بیان کرتا ہے ۔۔بغیر پرواہ کئے کہ اس کی عزت نفس مجروح ھو رھی ھے ۔۔یہ لوگ نہایت کم ظرف اور گھٹیا ھوتے ھیں ۔۔جنہیں دوسروں کو اذیت میں مبتلا دیکھ ذھنی آسودگی ھوتی ھے ۔۔
دوسرا طبقہ معلوم ھونے پر اس شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔۔
اس آس پر کہ اللہ پاک میری غلطیوں پر پردہ پوشی کرے گا ۔
یہ لوگ اعلی ظرف کے عظیم لوگ ھوتے ھیں ۔۔
یہ معاشرہ اللہ پاک نے مختلف شکلوں عقلوں طبیعت کردار کے لوگوں سے سجا رکھا ہے ۔۔
کوشش کرنی چاہیے کہ ھم اپنے کردار گفتار سے معاشرے کے لئے آسانیاں پیدا کریں ۔۔
اللہ پاک سبھی کا حامی و ناصر ہو
آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: