چترال میں لمبا ترین واٹر سپلائن لائن مکمل،عوام پینے کی پانی کی دستیابی سے خوش


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقہ نیشکوہ میں سب سے لمبا ترین پائپ لائن مکمل ہوا جو علاقے کے لوگوں کو پینے کی پانی فراہم کرے گی۔ محکمہ پبلک ہیلتھ کے سب انجنئیر محمد آصف اور تعمیراتی کمپنی کے نمائندوں نے اس منصوبے کا معائنہ کیا جس کیلئے کئی بار پہاڑ پرچڑھنا پڑا۔


انجنیر آصف کے مطابق یہ سب سے لمبا تر پائپ لائن ہے جو 45000 فٹ لمبا ہے جو ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم کا ٹنڈر 2015 میں ہوا تھا مگر علاقے کے لوگوں کا آپس میں رنجشوں اور باہمی احتلافات کی وجہ سے اس پر کئی بار کام روک دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سکیم کی کامیابی کیلئے سیکرٹری پبلک ہیلتھ اور اعلےٰ افسران بھی آئے تھے مگر بعض لوگ اپنے زمین میں سے یہ پائپ لائن چھوڑنے کو تیار نہیں تھے اور اس منصوبے میں ملازمت مانگ رہے تھے۔ تاہم علاقے کے معززین کا جرگہ تشکیل دیا گیا اور ان لوگوں کو اس بات کیلئے راضی کیا گیا کہ ان کی زمین میں سے پائپ لائن گزارا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پانی ایک ندی سے نکل کر آتا ہے مگر مقامی مزدوروں نے پانی کی ٹینکی اور پانی کا نالہ ناقص بنایا تھا جس کیلئے ان کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ اسے دوبارہ تعمیر کرکے درست کیا جائے۔
علاقے کے معززین اور سابق کونسلرز وغیرہ نے بھی اس سکیم کا معائنہ کیا۔ اب یہ پانی ٹینکی میں گرتا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں یہ پانی پائپ لائن کے ذریعے گھر گھر تک پہنچایا جائے گا۔
علاقے کے ایک بزرگ شہری اعظم خان نے بتایا کہ اس سے پہلے ہم دریا کا گدلا پانی پینے پر مجبور تھے اور ہمارے خواتین دور دراز علاقوں سے مٹکوں میں پانی لایا کرتی تھی اب اس سکیم سے ہمیں قدرے سکون نصیب ہوگا اور ؤسانی سے پانی دستیاب ہوں گی۔
اس علاقے کے جامع مسجد کے پیش امام نے بھی اس منصوبے کی تکمیل پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ ستر فی صد کام مکمل ہوا ہے اور صرف تیس فی صد کام باقی ہے جس میں پائپ لاین کو محتلف جگہوں میں سیدھا کرنا، اسے مٹی میں چھپانا، اور پائپ لاین کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچانا اور اسکے ساتھ ہی جہاں سے پانی آتا ہے اس ندی اور ٹینکی کی مرمت کرنے کے بعد یہ منصوبہ مکمل ہوگا۔
اس موقع پر تعمیراتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو حاجی محبوب اعظم نے عوام کو ٹیلفون کے ذریعے اپنے پیغام میں بتایا کہ خدا راا پنی باہمی احتلافات کو حتم کرے اور مل بیٹھ کر اس منصوبے کو کامیاب کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوتا اور گھر گھر تک پانی نہیں پہنچتا وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اگر اسے حسارہ بھی کرنا پھر بھی وہ یہ کام مکمل کرے گا اگر اسے جیب سے بھی خرچ کرنا پڑے تو اس کیلئے بھی وہ تیار ہے مگر عوام سے درخواست ہے کہ محالفت برائے محالفت سے گریز کرے اور اس منصوبے کی کامیابی کیلئے دعا کرے۔
علاقے کے لوگوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ اور تعمیراتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اگلے چند ہفتوں میں یہ منصوبہ مکمل ہوکر ان کے گھروں تک پینے کا صاف پانی پہنچے گی۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں پینے کی پانی کی شدید قلعت ہے اور لوگ دریا کا گندا پانی پینے پر مجبور تھے بعض لوگ صاحب حیثیت لوگ گاڑیوں میں دور دراز علاقوں سے پینے کا پانی بالٹیوں، کولر اور مٹکوں میں بھی لایا کرتے تھے اب اس منصوبے کی تکمیل سے ان لوگوں کو اس مشکل سے چٹکارا حاصل ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: