امریکی کانگریس پولیس کے مظالم رکوائے: فلونوئس فلوئیڈ

امریکہ میں پولیس تشدد سے ہلاک ہوئے افریقی النسل امریکی جارج فلوئیڈ کے بھائی  فلونوئس فلوئیڈ نے  کانگریس کی ایک سماعت میں امریکی قانون سازوں سے کہا ہے کہ پولیس کے مظالم  روکنے کے لیے وہ  مناسب قانون سازی کریں۔

جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں موت پر پورے ملک میں احتجاج ہوا۔ ان مظاہروں میں نسلی بے انصافی کے خلاف احتجاج کیا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ پولیس کے رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

 پولیس اصلاحات کے بارے میں ایوان کی عدالتی کمیٹی میں جارج فلائیڈ کے بھائی فلونائز فلائیڈ نے پولیس اصلاحات کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح کا منظر دیکھ کر آپ کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی کی اس طرح کی موت تا عمر یاد رہے گی۔”

انہوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ دیکھ کر تھک گیا ہوں کہ سیاہ فام بغیر کسی وجہ کے ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ آپ سے اس کو روکنے کی اپیل کروں۔ اس دکھ کو ختم کیجیے۔

ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو کیلی فورنیا میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران ہلاک ہونے والے فیڈرل پروٹیکٹیو سروسز کے افسر ڈیو پیٹرک انڈر ووڈ کی بہن اینجیلا جیکب بھی پیش ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے مظالم اور نسلی امتیاز کو پر امن طور سے ختم کرنا ہوگا۔ جب معصوم افراد انصاف کی بھینٹ چڑھتے ہیں تو یہ ہم سب کا نقصان ہے۔

انہوں کہا کہ امریکہ کو اس کے حل کے لیے قانونی اور پر امن راستہ اپنانا ہوگا۔

امریکی کانگریس کے اراکین پولیس اصلاحات کے سلسلے میں مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ بعض مقامی اور ریاستی حکام نے اپنے اپنے پولیس کے محکموں کی فنڈنگ اور پولیس اختیارات کے سلسلے میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

ایوان کے ڈیموکریٹ اراکین نے پولیس اصلاحات کا ایک پیکج تیار کیا ہے۔ اس کے بارے میں توقع ہے کہ اس ماہ کے اندر ووٹنگ ہوگی۔

دوسری طرف سینیٹ میں ری پبلکن لیڈروں نے سینیٹر ٹم اسکاٹ کو اصلاحات کا پیکج تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اسکاٹ نے کہا ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے مشورے سے ایک مناسب اور ضروری اصلاحات کا پیکج پیش کروں گا۔

سینیٹ میں عدالتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر لنڈزے گراہم نے اگلے ہفتے پولیس کے طاقت استعمال کرنے کے بارے سماعت کا اعلان کیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: