امریکہ: احتجاجی مظاہرے جاری، واشنگٹن کے اطراف کے فوجی اڈوں پر فوج کی تعیناتی

واشنگٹن میں متعین 1300 سے زائد آرمی پولیس میں مزید 500 کا اضافہ، دارالحکومت کے اطراف کے فوجی اڈوں پر فوج کی بھاری نفری متعین کر دی گئی

امریکہ میں 26 مئی کو ریاست مینے سوٹا میں پولیس تشدد کے نتیجے میں جارج فلائڈ کی ہلاکت سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شدت پیدا ہونے کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں متعین ایک ہزار 300 سے زائد آرمی پولیس میں مزید 500 کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ نے شہر میں مظاہروں کے دوران کی جانے والی لُوٹ مار کی وجہ سے تقریباً 700 افراد کو حراست میں لینے کا اعلان کیا ہے۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں میں 10 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور 10 سے زائد پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

شہر میں عالمی شہرت یافتہ شاپنگ مال ففتھ ایوینیو، سوہو اور ہرالڈ اسکوائر میں واقع لگژری شاپنگ سینٹروں میں لوٹ مار کے بعد کرفیو کی مدت کو پورے ہفتے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

شہر میں لُوٹ مار پر قابو پانے کے لئے مقامی وقت کے مطابق شام 8 بجے سے بعض سڑکوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔

دوسری طرف ٹیکساس  میں 25 ہزار مظاہرین کی شرکت سے کئے گئے احتجاجی مظاہروں میں جارج فلائڈ کے کنبے نے بھی شرکت کی۔

کیلیفورنیا میں ہزاروں مظاہرین نے نیشنل آرمی پولیس کی بھاری تعیناتی کے باوجود مظاہرے جاری رکھے۔

واشنگٹن ڈی سی کے مظاہروں میں اگرچہ بھاری شرکت کی گئی لیکن مظاہرے گذشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ پُر امن رہے۔

وائٹ ہاوس اور اس کے اطراف میں پولیس، ایف بی آئی، نیشنل آرمی پولیس اور خفیہ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں، مظاہرین کو وائٹ ہاوس کے سامنے لافائیٹے پارک میں گھسنے سے روکنے کے لئے طویل فولادی باڑ لگائی گئی۔

مظاہروں میں شامل تقریباً 15 ہزار افراد نے فلائڈ کی موت اور ملک میں پولیس تشدد کے خلاف نعرے لگائے۔ گذشتہ روز کے مقابلے میں مظاہروں میں بھاری شرکت مرکز توجہ بنی۔

شہر میں کرفیو شروع ہونے کے باوجود بھی مظاہرے جاری رہے اور مظاہرین کے ایک گروپ نے وائٹ ہاوس سے اسمبلی کی عمارت کی طرف مارچ کی۔

اسمبلی کے سامنے کچھ دیر مظاہرہ کرنے کے بعد مظاہرین واپس وائٹ ہاوس کے لافائیٹے پارک کے سامنے جمع ہو گئے۔

مظاہرین کا ایک بڑا حصہ رات گئے وائٹ ہاوس کے سامنے سے منتشر ہوا۔

دوسری طرف امریکی انتظامیہ واقعات کے مقابل واشنگٹن ڈی سی میں سکیورٹی میں مستقل اضافہ کر رہی ہے۔

اطلاع کے مطابق شام تک شہر میں 1500 آرمی پولیس متعین ہو جائے گی اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے جوار کی فوجی بیسوں پر بھی فوجیوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔

موصول معلومات کے مطابق انڈریو ائیر بیس پر 750 فوجیوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 بلیک ہاک، 4 چینوک سمیت کُل 14 ہیلی کاپٹر بھی بیس پر منتقل کئے گئے ہیں۔

اطلاع کے مطابق فوجی فی الحال کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ انہیں صرف حفظ ماتقدم کے طور پر بیس پر منتقل کیا گیا ہے۔

امریکہ وزارت دفاع پینٹاگون نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حفظ ماتقدم کے طور پر، 82 ویں ائیر بورن ڈویژن کی فورٹ براگ بیرکوں اور ماونٹینئیر ڈویژن کی فورٹ ڈرم بیرکوں سے تقریباً 1600 فوجیوں کو واشنگٹن کے علاقے میں متعین کیا گیا ہے۔

اس دوران امریکہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جیروم ایڈمز نے کہا ہے کہ جارج فلائڈ کے لئے جاری احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ہم کووِڈ۔19 وباء کے دوبارہ پھوٹنے کا خدشہ محسوس کر رہے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ایڈمز نے کہا ہے کہ مظاہروں میں ہزاروں افراد شامل ہیں ۔ مظاہرین اگرچہ ماسک پہنے ہوئے ہیں لیکن سماجی فاصلے کا دھیان نہیں رکھا جا رہا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے بھی امریکی حکام سے مظاہروں میں مداخلت کے معاملے میں اعتدال سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں گٹرس نے کہا ہے کہ “ہمارے میزبان ملک اور اقوام متحدہ کے مرکز نیویارک میں تشدد کے واقعات دیکھنا نہایت تکلیف دہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: